کمیشن کی درخواست اطالوی رامازینی ادارے کو کی گئی ہے۔ اس ادارے نے حال ہی میں ایک نئی تحقیق شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلیفوسیٹ کینسر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ یورپی کمیشن چاہتی ہے کہ EU کے ادارے جیسے EFSA اور ECHA ان نتائج کی جانچ کریں اس سے پہلے کہ کوئی پالیسی اقدامات کیے جائیں۔
محققین کے مطابق، نئی تحقیق میں لیبارٹری چوہوں میں گلیفوسیٹ کے انکشاف اور ٹیومر کے بننے کا تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اسے اضافی ثبوت سمجھتے ہیں کہ گلیفوسیٹ ممکنہ طور پر کینسر پیدا کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پہلے ہی نتیجہ نکالا تھا کہ گلیفوسیٹ "ممکنہ طور پر کینسر پیدا کرنے والا" ہے۔ یہ موقف EFSA اور ECHA کے پہلے کے نتائج کے ساتھ متصادم ہے۔
EU کے نگرانی ادارے جیسے EFSA اور ECHA کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی قطعی ثبوت نہیں ملا کہ گلیفوسیٹ کینسر کا باعث بنتا ہے۔ یہ تشخیص متعدد مطالعات کی بنیاد پر ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر تحقیق یا تو گلیفوسیٹ کے پروڈیوسرز بشمول بائر کے زیرِ سرمایہ کاری یا زیرِ نگرانی کی گئی ہے۔
لیکن رامازینی ادارے کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ ادارہ پہلے بھی اپنی خام تحقیقی معلومات شیئر کرنے سے انکار کر چکا ہے جس کی وجہ سے پیئر ریویو مشکل ہو گئی۔ کیمیکلز کی کمپنی بائر نے جواب میں کہا کہ نئی تحقیق میں طریقہ کار کی خامیاں ہیں۔
کئی EU ممالک کی زرعی تنظیمیں موقف رکھتی ہیں کہ اگر رامازینی تحقیق سائنسی طور پر ثابت ہو جائے تو گلیفوسیٹ کے استعمال کو فوراً بند کیا جانا چاہیے۔ نیدرلینڈز کی زرعی تنظیم LTO نے *Trouw* میں کہا: "اگر یہ درست ہے تو اسے فوراً مارکیٹ سے ہٹانا چاہیے۔"
یورپی کمیشن بار بار کہتی ہے کہ پالیسی میں تبدیلی صرف مضبوط سائنسی ثبوت کی صورت میں ہو گی۔ کمیشن چاہتی ہے کہ EU کے ادارے پہلے مکمل اور محتاط رائے دیں، اس کے بعد ہی گلیفوسیٹ کے استعمال کے حوالے سے ممکنہ نئے اقدامات کیے جائیں۔
ادھر نیوزی لینڈ میں گلیفوسیٹ کی منظوری کے خلاف ایک نئی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ وہاں کی ماحولیاتی تنظیمیں نئے اطالوی تحقیق کی بنیاد پر منظوری کے قوانین کے ازسرنو جائزے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ عالمی بحث کے اثرات کی تصدیق کرتا ہے۔

