یہ قانون شروع کرنے میں دوسری مرتبہ تاخیر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی مصنوعات جیسے کافی، کوکو، گوشت اور سویا جو کہ کٹے ہوئے جنگلات یا گھنے جنگلات میں اگائی گئی ہوں، یورپی مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں۔ کمپنیوں کو یہ ثبوت دینا ہوگا کہ ان کی اشیاء جنگلات کی کٹائی سے آزاد ہیں۔
برسلز کے مطابق تاخیر کی وجوہات میں یہ شامل ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو لاکھوں اسناد کو پروسیس کرے گا، ابھی صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ اس نظام کے بغیر کسٹمز اور کمپنیاں قانون کے مطابق کام نہیں کر سکیں گی۔
ماحولیاتی تنظیمیں اس پر شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ برسلز ایک بار پھر معاشی مفادات کے آگے جھک رہا ہے اور وہ محسوس کرتی ہیں کہ جنگلات کو عالمی سطح پر مزید خطرات لاحق ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ صارفین کا اعتماد کمزور کرتا ہے جو امید کرتے ہیں کہ روزمرہ کی خریداری جنگلات کی کٹائی میں معاون نہیں ہوگی۔
یورپی پارلیمنٹ میں بھی اس بارے میں تقسیم ہے۔ قدامت پسند گروہ سمجھتے ہیں کہ تاخیر سے قوانین کو زیادہ قابل عمل بنانے کے لیے موقع ملے گا۔ جبکہ دیگر اسے کمزوری سمجھتے ہیں اور فکرمند ہیں کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی پالیسی سے متعلق اہم فیصلے مزید کمزور ہوں گے۔
دوسری طرف کسان اور جنگلات کی تنظیمیں مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قوانین اب بہت پیچیدہ اور مشکل ہیں۔ ان کے مطابق کم انتظامی ذمہ داریاں اور واضح اصول قانون کو عملی طور پر قابل نفاذ بنانے میں مدد کریں گے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ نفاذ میں تاخیر ہوئی ہے۔ پچھلے سال بھی یہ قانون ایک سال کے لیے مؤخر کیا گیا تھا، جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ کمپنیاں مزید تیاری چاہتی ہیں۔ اب تاخیر کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی ہے: وہ سافٹ ویئر جو تمام ڈیٹا کو ریکارڈ کرے گا، اتنے ڈیٹا کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔
اسی دوران سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ پچھلی گرمیوں میں اٹھارہ EU ممالک نے قواعد کو آسان بنانے کی درخواست کی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ برسلز کمپنیوں سے بہت زیادہ مطالبہ کرتا ہے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سختی میں کمی کی جائے۔
قانون میں تاخیر کے اس مجوزہ فیصلے کو اب رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ وہاں یہ طے ہونا ہے کہ سیاستدان جلد از جلد نفاذ کو ترجیح دیں گے یا دوبارہ تاخیر کا فیصلہ کریں گے۔

