عائد کردہ جرمانہ اب تک یورپی کمیشن کی طرف سے ڈیجیٹل خدمات کے لیے یورپی DSA قوانین کی بنیاد پر سب سے بڑا ہے۔ یہ قوانین بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو پابند کرتے ہیں کہ وہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کریں اور غیر قانونی مصنوعات کی تقسیم کے خلاف اقدامات کریں۔
ناکافی کارکردگی
برسلز کے مطابق علی ایکسپریس نے ان پابندیوں کی پاسداری کافی حد تک نہیں کی۔ کمپنی ممنوعہ مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں ناکام رہی اور فراڈ کرنے والے بیچنے والوں کی نگرانی کمزور رہی۔ جس کی وجہ سے غیر قانونی اشیاء پلیٹ فارم کے ذریعے یورپی صارفین تک پہنچتی رہیں۔
کمیشن نے علی ایکسپریس کو ہدایت دی ہے کہ وہ پائے جانے والے خلل کو دور کرے اور اس کے لیے ایک بہتری منصوبہ تیار کرے۔ اگر یہ دونوں طرف سے تسلی بخش عمل میں آتا ہے تو جرمانہ معطل یا کم کیا جا سکتا ہے۔ برسلز نے پہلے بھی امریکی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ایسا کیا ہے جو انٹرنیٹ پر یورپی قواعد کی پابندی نہیں کرتیں۔ اگر چینی کمپنی مقررہ ذمہ داریوں پر پورا نہیں اترتی تو اضافی جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
Promotion
چھوٹے پوسٹل پارسلز
یہ جرمانہ چین کی ویب شاپس اور دیگر بڑے آن لائن مارکیٹ پلیسز پر یورپی نگرانی کی کڑی سختی کا حصہ ہے جو یورپی یونین کے صارفین کو روزانہ لاکھوں مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ یہ سختی صرف ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز پر ہی محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں یورپ میں چینی ویب شاپس سے یورپی صارفین کو بھیجے جانے والے چھوٹے پوسٹل پارسلز پر تین یورو نیا کسٹم ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق روزانہ لاکھوں چھوٹے پوسٹل پارسلز یورپی یونین میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہر پارسل کی ممنوع، خطرناک یا جعلی مصنوعات کے لیے جانچ ممکن نہیں۔ نئی ڈیوٹی کے ذریعے برسلز اس مال کی نگرانی کو بہتر اور قابلِ عمل بنانا چاہتا ہے۔
انصاف پسندانہ مقابلہ
یہ اقدامات تیزی سے بڑھتی ہوئی تیسرے ممالک کی ای کامرس پر نظر رکھنے کے یورپی منصوبے کا حصہ ہیں۔ کمیشن صرف مصنوعات کی حفاظت پر توجہ نہیں دیتا بلکہ ان کمپنیوں کے لیے بھی جو یورپی قوانین کی پیروی کرتی ہیں، منصفانہ مقابلے کو یقینی بنا رہا ہے۔
علی ایکسپریس پر ریکارڈ جرمانہ اور چھوٹے پوسٹل پارسلز پر نئی ڈیوٹی کے ذریعے برسلز یہ واضح کر رہا ہے کہ وہ آن لائن تجارت کے یورپی قواعد کی سخت خلاف ورزی کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ کمیشن یہ بھی بتا رہا ہے کہ بڑے بین الاقوامی ویب شاپس کو بھی یورپی مارکیٹ میں کام کرنے والی دیگر کمپنیوں کی طرح اپنی مصنوعات کے حوالے سے ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

