کسانوں کے احتجاج اور پڑوسی ملک پولینڈ میں انتخابی دباؤ کی وجہ سے برسلز نے بغیر ٹیرف کے داخلے کو محدود کرنے اور مخصوص مصنوعات کے لیے دوبارہ درآمدی کوٹہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کو یورپی یونین کے ممالک سے ہری جھنڈی مل گئی ہے کہ 6 جون سے پہلے ختم کی گئی کسٹم ڈیوٹیز دوبارہ نافذ کی جائیں۔
یہ خصوصاً مرغی، انڈے، چینی، مکئی اور جئ جیسے زرعی مصنوعات پر لاگو ہوں گی۔ 2022 سے یہ مصنوعات درآمدی محصول سے مستثنیٰ تھیں، لیکن یورپی یونین خاص طور پر یوکرین کے پڑوسی ممالک میں اس پر مخالفت سامنے آئی ہے۔
خاص طور پر پولش، رومانیائی اور سلوواک کسان سستی یوکرائنی مصنوعات کی آمد کے خلاف طویل عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم برسلز سفارتی راستہ بھی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یورپی کمیشن یوکرین کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے کرنے کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین کی ممکنہ EU رکنیت کی راہ ہموار کرے گا اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے گا۔
مزید ذرائع کے مطابق چند ہفتوں میں نئے معاہدے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے انتظار پولش صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے، جو جون کے آغاز میں ہوگا، کے بعد تک کیا جائے گا کیونکہ یہ موضوع پولش ووٹروں میں حساس سمجھا جاتا ہے۔
پولش دیہی علاقوں میں حکومت تسک کے یورپی اور یوکرینی حمایت یافتہ پالیسیوں کی مخالفت زیادہ ہے۔ یوکرینی زرعی مصنوعات کی آمد نے وہاں کشیدگی، بندشیں اور شدید سیاسی تقسیم کو جنم دیا ہے۔ حکومت یورپی یونین کے معاہدوں کے ذریعے سماجی بے چینی کو کم کرنا چاہتی ہے۔
اگرچہ یوکرین یورپی یونین کے فیصلوں پر افسوس ظاہر کرتا ہے، مگر یہ ملک یورپی برآمدی راستوں پر منحصر ہے۔ یوکرینی حکومت نے رسمی اعتراض درج کرا رکھا ہے اور استثنائی حالات یا معاوضہ دینے کے اقدامات کا مطالبہ جاری رکھا ہوا ہے۔ فی الحال یورپی یونین اپنے فائدہ مند تجارتی نظام کو واپس لینے پر عزم دکھا رہی ہے۔

