خصوصاً زراعت میں کیمیائی مرکبات کے استعمال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ پانی کی آلودگی کے خلاف موجودہ اقدامات ناکافی ہیں۔ متعدد تحقیق کے مطابق نائٹریٹ اور دیگر زرعی کیمیکلز خراب پانی کے معیار کی اہم وجوہات ہیں۔ خاص طور پر ایسا علاقوں میں جہاں زراعت شدید ہے، وہاں دریاؤں، جھیلوں اور زیر زمین پانی کی سخت آلودگی پائی جاتی ہے۔
اسی وجہ سے کمیشن نائٹریٹ ہدایات کو سخت کرنا چاہتا ہے۔ اس تجویز میں 2030 تک پانی کے استعمال کو دس فیصد کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ کمیشن یورپ میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کے مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور خوراک کی سلامتی اور حیاتیاتی تنوع پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خبردار کرتا ہے۔
متعدد ذرائع کے مطابق یہ تجویز یورپی پارلیمان میں متنازعہ ہے۔ خاص طور پر زرعی کمیٹی اور زرعی مفادات کی تنظیموں میں سخت مخالفت متوقع ہے۔ وہ خدشہ رکھتے ہیں کہ سخت ماحولیاتی قوانین کسانوں کو نقصان پہنچائیں گے اور خوراک کی پیداوار پر دباؤ ڈالیں گے۔
ایک اور تنازعہ گرین ڈیل کے ماحولیاتی اور موسمی قوانین کے سیاسی حساسیت کا ہے۔ پولیٹیکو کے مطابق یورپی پارلیمان کی سب سے بڑی پارٹھی ای وی پی کے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے انتظام پر تیار کیے گئے مسودے میں گرین ڈیل کا کوئی حوالہ حذف کیا جائے – یہاں تک کہ 'گرین ڈیل' کا لفظ بھی نہ آئے۔
پارلیمان کی تنقید صرف مواد تک محدود نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی بات چیت پر بھی اعتراضات ہیں: کمیشن تجاویز کو ٹیکنیکل اور ضروری قرار دیتا ہے، جبکہ زراعت اور معیشت پر اس کے اثرات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
متعدد ذرائع نے یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ قلیل مدتی مفادات جیسے معاشی ترقی اور خوراک کی فراہمی زیادہ اہم سمجھی جا رہی ہے جبکہ پائیداری کے لئے طویل مدتی اقدامات کی اہمیت کم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم کمیشن زور دیتا ہے کہ کچھ نہ کرنا ساختہ خشک سالی اور ماحولیاتی نقصان کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔
اس کے باوجود یورپی کمیشن پرزور ہے کہ یہ تجویز نافذ کی جائے۔ اس میں یورپی یونین کے ممالک کی سابقہ ماحولیاتی تحفظ کی وعدوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اب تک مکمل طور پر پورے نہیں ہوئے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ تجویز کس شکل میں منظور ہوگی۔ البتہ یہ واضح ہے کہ پانی کے انتظام کا معاملہ برسلز کے ایجنڈے میں تیزی سے اہم ہو رہا ہے۔

