دونوں طاقتور بلاکس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، حالانکہ ابھی تک کوئی براہِ راست تجارتی جنگ شروع نہیں ہوئی ہے۔
برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی بدھ کو اجلاس کرے گی تاکہ یورپی کمیشن کی صدر ٹرمپ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا جائزہ لے سکے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو اجازت ہے کہ وہ یورپی مصنوعات پر پندرہ فیصد زیادہ درآمدی محصولات لگا سکتا ہے، جبکہ یورپ کوئی جوابی اقدام نہیں کرے گا۔
یہ معاہدہ وقتی مفاہمت کے طور پر وضع کیا گیا ہے، لیکن یورپی پارلیمنٹ میں اس کی حمایت یقینی نہیں ہے۔ اس طرح یہ ایک مقابلہ بھی بن چکا ہے یورپی یونین کے اداروں کے درمیان۔
کئی یورپی پارلیمنٹیرین اس معاہدے کو حد سے زیادہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق دی گئی رعایتوں سے یورپی صنعت کو نقصان پہنچے گا۔ خاص طور پر زرعی شعبہ اور اسٹیل انڈسٹری متاثر ہوں گے۔
صدر وان ڈر لائن اس معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ طے شدہ شرائط مکمل تجارتی جنگ سے بہتر ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بڑھتے ہوئے محصولات یورپی معیشت کو بہت نقصان پہنچائیں گے۔ ان کے بقول یہ مفاہمت مستقبل کے مذاکرات کے دروازے کھولتی ہے اور دونوں معیشتوں کو غیر ضروری نقصان سے بچاتی ہے۔
اسی دوران یورپی کمیشن نے امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات جیسے جوابی اقدامات سے وقتی طور پر گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھلے انتقام سے کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ برسلز نے موجودہ مذاکرات کو نئی سرحدی رکاوٹوں سے بوجھل کرنے سے اجتناب کیا ہے۔
واشنگٹن میں کانگریس میں اگلے دن (جمعرات کو) ڈیجیٹل تجارت کے یورپی قوانین پر سماعت ہوگی۔ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) جو گوگل، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر قواعد نافذ کرتے ہیں، وہاں سخت تنقید کا موضوع ہیں۔ امریکی سیاستدان ان قوانین کو سنسرشپ اور آزاد منڈی پر حملہ قرار دیتے ہیں۔
برسلز سے ایک مخالف آواز بھی سنی جاتی ہے: یورپی یونین کا موقف ہے کہ یہ قوانین کاروباری برابری اور شہریوں کو بڑی کمپنیوں کے غیر منصفانہ عمل سے بچانے کے لیے ہیں۔ کمیشن یہ بھی کہتی ہے کہ یورپی اندرونی مارکیٹ کو ڈیجیٹل تجارت میں وہی معیار اپنانا چاہیے جو روایتی شعبوں کے لیے ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سابق یورپی کمشنر بریٹون امریکی سماعت میں حاضر ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی قوانین پر امریکی کانگریس کے سامنے جواب دہی ضروری نہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورپی یونین اپنی پالیسی خود بنانے میں مستقل مزاج ہے، چاہے اس کا تعلق واشنگٹن کے ساتھ نئے تنازعات سے ہو۔

