یورپی کمیشن ہفتہ کو پیراگوئے میں مرکسور ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔ اسی دوران یورپی پارلیمنٹ میں کچھ EU سیاستدانوں کے مطابق اس معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
دوسری طرف کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 25 سال کی مذاکرات کے بعد EU کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ایک بڑی اقتصادی طاقت بنے اور امریکہ کی متغیر تجارتی حکمت عملی پر زیادہ انحصار نہ کرے۔
EU ممالک نے حال ہی میں اس معاہدے کو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا ہے۔ اس عمل میں پانچ ممالک نے مخالفت کی، جن میں زراعتی بڑی طاقتیں فرانس اور پولینڈ شامل تھیں، لیکن وہ معاہدہ روکنے کے لیے کافی نہیں تھیں۔ اس طرح فیصلہ سازی کے عمل کا اگلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
اگرچہ حکومتوں نے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کو حتمی متن پر رائے دینی ہے۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل نہیں ہو سکتا۔
اسی دوران ممکن ہے کہ معاہدے کے کچھ حصے عارضی طور پر نافذ کیے جائیں۔ موجودہ معاہدوں کے مطابق یہ پارلیمنٹ کی ووٹنگ سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہی امکان یورپی پارلیمنٹ ممبران میں بے چینی کا باعث ہے۔
ضمانتوں کے لیے کوششیں کی گئیں کہ عارضی نفاذ کو موخر کیا جائے، لیکن بعد میں برسلز نے ان کو واپس لے لیا۔ اس اقدام پر شدید تنقید ہوئی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسی ضمانتوں کا واپس لیا جانا یورپی فیصلہ سازی اور پارلیمانی نگرانی پر اعتماد کے لیے نقصان دہ ہے۔ دیگر نے کہا کہ پارلیمانی ووٹنگ کا انتظار کرنا کوئی قائم شدہ عمل نہیں ہے۔
یورپی پارلیمنٹ میں انتہائی بائیں اور انتہائی دائیں دونوں جماعتیں معاہدے کی منظوری کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی یورپی کمیشن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دائر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیئر لائین نے اپنی یورپی عوامی پارٹی (EPP) سے کہا ہے کہ وہ تجارتی معاہدے کی حمایت جاری رکھے۔ یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپی کسان منگل کو سٹراسبرگ میں زرعی مصنوعات کی درآمد کی آزادی کے خلاف ایک بار پھر احتجاج کر رہے ہیں۔
معاہدے کے حامی اس کے اقتصادی اور اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو عالمی تجارت میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہیے، خاص طور پر جب بین الاقوامی تجارتی تعلقات دباؤ میں ہیں۔

