IEDE NEWS

جورجیا کے وزیر اعظم نے جمہوری ناکامی پر یورپی تنقید کو مسترد کر دیا

Iede de VriesIede de Vries
جورجیا کے وزیر اعظم ايراکلی کوباشيتزے نے یورپی پارلیمنٹ کی ملک میں جمہوری آزادیوں کے زوال پر سخت تنقید کو پوری طرح رد کر دیا ہے۔ تبلیسی اور برسلز کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، کیونکہ جورجیا یورپی معیارات سے دور ہوتا جا رہا ہے اور ایسے قوانین نافذ کر رہا ہے جو ماسکو کے قریب لگتے ہیں۔
Afbeelding voor artikel: Premier Georgië verwerpt Europese kritiek op democratische tegenslag

گزشتہ ہفتے یورپی پارلیمنٹ نے ایک غیر لازمی قرار داد میں جورجیا میں جمہوری صورتحال کی سنگین خرابی کو بیان کیا۔ اس میں حالیہ 'غیر ملکی اثرات' کے قانون، مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور اپوزیشن اراکین کی دھمکیاں شامل ہیں۔ یہ پیش رفت یورپی قدروں اور معیارات کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔

جورجیا کے وزیر اعظم، جنہوں نے پہلے یورپی تنقید کو جانبدار قرار دیا تھا، نے اس قرارداد کو 'شرمناک' اور 'ناقابل قبول' کہا ہے۔ کوباشيتزے کے مطابق ظلم و ستم یا جمہوری قواعد سے انحراف کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی ادارے ملکی امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی جورجیا کے اندر یورپی حامی صدر سالومے زوراباشویلی اور جورجیائی خواب کے موجودہ حکمرانوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، جو حال ہی میں ایسی پالیسی اپنائے ہیں جو زیادہ روسی رجحان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ ماسکو نواز موقف کشیدگی بڑھا رہا ہے جبکہ ملک کے بڑے حصے کی آبادی یورپی سمت میں رہنا چاہتی ہے۔

Promotion

جورجیا نے رسمی طور پر یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی ہے، مگر شمولیت کا عمل مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ اس ملک کو گزشتہ سال امیدوار کی حیثیت دی گئی تھی، اصل رکنیت ابھی دور کی بات ہے۔ درخواست ان تین مغربی بالکان ممالک کی درخواستوں سے الگ کر دی گئی ہے جنہوں نے تقریباً ایک ہی وقت میں درخواست دی تھی۔

دوسری جانب، یورپی یونین یوکرین اور مالڈووا کی شمولیت کو تیزی سے مکمل کرنا چاہتی ہے۔ روس کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے پیش نظر برسلز ان دونوں ممالک کی فوری انضمام کو ایک اسٹریٹجک ترجیح سمجھتا ہے۔ جورجیا کو فی الحال زیادہ دور رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ موجودہ حکمرانوں میں اعتماد کی کمی ہے۔

یوں یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں صرف جورجیا کی صورتحال کی مذمت ہی نہیں کی گئی، بلکہ واضح اقدامات کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ مثلاً، بڈزینا ایوانیشویلی سمیت ذاتی پابندیوں کی اپیل کی گئی ہے، جو کہ حکومتی جماعت کے پیچھے اثرورسوخ رکھنے والا امیر تاجر سمجھا جاتا ہے۔ دیگر سیاستدان اور کاروباری حضرات جو روس نواز پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں، انہیں بھی ممکنہ یورپی پابندیوں کا نشانہ بنایا جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

جورجیا اور یورپی یونین کے مابین کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ جب برسلز ملک کے آمرانہ طریقوں کی جانب گِرنے پر پریشان ہے، جورجیا کی حکومت اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ یہ رویہ نہ صرف یورپی یونین کی فوری رکنیت کو سست کر سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی شراکت داروں کا ملک کی استحکام پر اعتماد بھی کم کر سکتا ہے۔

Promotion

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Promotion