اسٹریسبورگ میں قائم یورپی پارلیمنٹ نے امریکہ کی طرف سے ڈنمارک اور دیگر یورپی یونین کے رکن ممالک کے خلاف تجارتی دھمکیوں اور معاشی دباؤ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعاون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
یورپی یونین کے سیاسی نمائندے یہ بھی کہتے ہیں کہ گرین لینڈ کو یورپی یونین کو تقسیم کرنے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یورپی یونین زور دار اور متحدہ ردعمل دے اور ایسے دباؤ کے اقدامات کی مزاحمت کرے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام کہا کہ وہ ان آٹھ یورپی ممالک پر اضافی درآمدی ٹیکس عائد نہیں کریں گے جنہوں نے گرین لینڈ پر عسکری تیاری کے مشن بھیجے تھے، جو ٹرمپ کی دھمکی آمیز زبان کے خلاف احتجاج کی صورت میں تھا۔
یورپی پارلیمنٹ نے بدھ کو یورپی یونین کی مشترکہ خارجہ اور سلامتی کی پالیسی (GBVB) اور مشترکہ سلامتی اور دفاع کی پالیسی (GVDB) دونوں کا جائزہ لیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے کہا کہ یورپی براعظم کے گرد یک instability کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ یہ عدم استحکام یوکرین سے لے کر کوکیشس، مشرق وسطیٰ سے ساحل افریقا، اور آرکٹک علاقے سے بہت دور تک پھیلا ہوا ہے۔
پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا سیاسی اثرورسوخ اور عالمی سطح پر دکھائی دینے والی اہمیت اکثر یورپی یونین کے اقتصادی، مالی اور سفارتی وزن سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ صورتحال بدلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئی امریکی خارجہ پالیسی، جو معاہدوں پر مبنی ہے اور تعاون اور یورپ کی حفاظت پر کم توجہ دیتی ہے، سے سبق حاصل کرنا چاہیے تاکہ یورپی یونین آئندہ دباؤ سے بچ سکے۔
ساتھ ہی، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان ٹرمپ حکومت کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں جو ’بے بنیاد امریکی پالیسی کو رسمی شکل دیتی ہے جس میں یورپی یونین کی بنیادی قدریں، جمہوری اصول اور بنیادی سلامتی کے مقاصد کو امریکی مفادات کے مخالف سمجھا جاتا ہے۔‘
یورپی پارلیمنٹ تسلیم کرتا ہے کہ نیٹو اور امریکہ اب بھی یورپ کے اہم اتحادی ہیں، مگر وہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے علیحدگی پسند رویے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ نیدرلینڈ کے یورپی پارلیمنٹ کے رکن تھیس روئٹن (گرین لنکس-پی وی ڈی اے) کے شریک مصنف ہونے کے ناطے، نئے سالانہ مشترکہ دفاعی پالیسی کی رپورٹ میں پارلیمنٹ نے یورپی دفاع کو حقیقت بنانے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔
روئٹن کہتے ہیں، ’تقریباً بیس سالوں سے یورپی یونین کی مشترکہ سلامتی اور دفاع کی پالیسی زیادہ تر صرف کاغذ پر موجود رہی ہے؛ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ حقیقت بنے۔‘ موجودہ حالات فوری کارروائی، اتحاد اور عمل کی آمادگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ’یہ نیٹو سے مقابلہ کرنے کی بات نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ یورپ خود کفیل ہو جائے اور سلامتی کے شعبے میں ایک معتبر کھلاڑی بن سکے۔‘
مشترکہ دفاعی پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ یورپی فوجیں ایک کمانڈ ڈھانچے کے تحت خود مختار طور پر کام کر سکیں، جو نیٹو سے آزاد ہو۔

