کمیشن کا کہنا ہے کہ ہنگری میں ججوں کی آزادی بنیادی طور پر دباؤ میں ہے۔ تقرریوں، پابندیوں اور عدالتوں کے اختیارات پر سیاسی اثر و رسوخ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ اس سے منصفانہ عدالتی عمل کے بارے میں تشویش پیدا ہوتی ہے اور بوداپیسٹ کو مزید یورپی ادائیگیاں کرنے سے روکا جاتا ہے۔
کل یورپی یونین کے 18 ارب یورو سے زائد رقم منجمد ہے۔ گزشتہ سال کمیشن نے 8 ارب یورو جاری کیے تھے جب ہنگری نے کچھ قانونی اصلاحات نافذ کی تھیں۔ تاہم، برسلز کے مطابق تب سے اب تک اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، حالانکہ ہنگری کی حکومت نے پہلے کچھ وعدے کیے تھے۔
ہنگری کے بارے میں ناخوشی صرف کمیشن تک محدود نہیں ہے بلکہ یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ میں بھی بڑھی ہے۔ کئی دارالحکومتوں میں سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ڈنمارک تو یہاں تک چاہتا ہے کہ ہنگری کے کونسل میں ووٹ دینے کے حق کو معطل کر دیا جائے۔
ڈچ یورپی پارلیمنٹ رکن رکیل گارسیا ہرمیدا-وان ڈر والی (D66)، جو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے سالانہ رپورٹ میں شامل تھیں، نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا: "جب آپ دیکھتے ہیں کہ ہنگری جیسے ممالک قانون کی حکمرانی کو کس طرح پامال کرتے ہیں، تو میں اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں کہ یورپی کمیشن خود کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا محسوس کرے۔ عدلیہ اور آزاد میڈیا کو مضبوط بنانے کی تجاویز وہاں سیدھی کچرے میں چلی جاتی ہیں۔"
یورپی پارلیمنٹ میں ایک اجلاس کے دوران مختلف سیاسی گروہوں نے زور دیا کہ آخر کار ہنگری کے متنازع وزیراعظم وکٹر اوربان کے خلاف واقعی پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس اجلاس میں سٹراسبرگ میں بوداپیسٹ کے میئر گرجیلی کراکونی نمایاں طور پر موجود تھے۔ بطور پرو-یورپی امیدوار وہ اگلے سال انتخابات میں حکمران فیدس پارٹی کے مقابل ہونگے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ سے کھڑے ہو کر داد حاصل کی۔
رپورٹ میں دیگر یورپی یونین کے ممالک کی صورتحال پر بھی تنقیدی تبصرے شامل ہیں۔ رومانیہ میں ججوں اور میڈیا پر سیاسی دباؤ کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔ مالٹا میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں کافی پیش رفت نہیں ہوئی، حالانکہ پہلے وعدے کیے گئے تھے۔ سلوواکیا کو حالیہ قوانین میں ایسی تبدیلیوں پر سخت تنقید کا سامنا ہے جو ججوں کی آزادی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ چیک جمہوریہ بھی عدالتی تقرریوں کے شفافیت میں پیچھے ہے۔
یورپی کمیشن نے نوٹ کیا ہے کہ کچھ ممالک نہ صرف یورپی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ اپنے ہی قوانین کو بھی نظر انداز کرتے ہیں، جو اتحاد کے اندر باہم اعتماد کو کمزوری پہنچاتا ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک معمولی پیش رفت کر رہے ہیں، لیکن برسلز کے مطابق یہ اکثر ساختی اصلاحات کہلانے کے لئے ناکافی ہے۔
یورپی یونین کے اندر قانون کی حکمرانی کے معیار پر عمل نہ کرنے والے ممالک سے نمٹنے کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ جب کہ کچھ حکومتیں سفارت کاری اور مکالمے کی حمایت کرتی ہیں، دیگر ممالک سخت پابندیوں کے حق میں ہیں۔ کمیشن دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہنگری کے معاملے پر سیاسی اور انتظامی بندش ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
اس کے جواب میں، یورپی کمیشن اپنی حکمت عملی کو وسیع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس وقت ایک موجودہ 'اصلاحات کے لیے نقدی' نظام کو بڑھانے پر کام ہو رہا ہے، جس کے تحت دیگر یورپی ممالک بھی صرف تب یورپی سبسڈی حاصل کریں گے جب وہ قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے حوالے سے قابلِ یقین اصلاحات کریں گے۔

