جنہیں 'واپسی مراکز' کہا جاتا ہے، ان میں مہاجرین کو ان کی پناہ گزینی کی درخواست کے دوران رکھا جائے گا، یا جہاں سے مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین کے ممالک سے واپس بھیجا جا سکے گا۔ اطالوی وزیر اعظم میلونی نے چند ماہ قبل البانیہ میں ایسا آغاز کیا تھا، لیکن اطالوی عدالتوں نے اسے واپس لیا۔
کرسٹرسیون اور نہیمر نے دلیل دی کہ مسترد شدہ مہاجرین میں صرف بیس فیصد واقعی یورپی یونین چھوڑتے ہیں۔ کرسٹرسیون کے مطابق موجودہ قوانین کو نافذ کرنے اور مہاجرت کی پالیسی کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ نہیمر نے مزید کہا کہ مشترکہ اقدام کے بغیر یورپی یونین کی ساکھ خطرے میں ہے۔
اس منصوبے کے تحت محفوظ تیسرے ممالک، جیسے البانیہ یا سربیا میں پناہ گزینوں کے قیام کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں مہاجرین اپنی صورتحال کے حل تک رہ سکیں گے۔ ان ممالک کو بدلے میں یورپی یونین کی جانب سے مالی یا سیاسی مدد دی جائے گی۔ کرسٹرسیون کے بقول یہ اقدام صرف ملک بدر کرنے کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ غیر قانونی مہاجرت کو بھی روکنے کے لیے ضروری ہے۔
مہاجرت سے نمٹنے کے لیے سیاسی دباؤ بہت زیادہ ہے۔ یورپی یونین کے کئی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں سخت مہاجرت قوانین کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اکتوبر میں یورپی کونسل کے اجلاس میں بھی یہ بات چیت ہوئی کہ تیسرے ممالک مہاجرت کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں۔
منصوبوں پر تنقید بھی جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے قیام کے مراکز میں اخلاقی مسائل اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی وارننگ دے رہی ہیں۔ مخالفین یورپی ذمہ داریوں کو یونین کے باہر کے ممالک کو سونپنے کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم حامی کہتے ہیں کہ یہ طریقہ مہاجرت کے نظام کو قابل عمل بنانے کے لیے ضروری ہے۔

