آئس لینڈ اور برسلز دونوں میں سیاسی ماحول حالیہ عرصے میں زیادہ قبولیت پذیر ہو گیا ہے۔
نئی گفتگو کا آغاز سلامتی، دفاع اور سمندری انتظامات بارے معاہدوں سے ہو رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ماہی گیری اور بحری تعاون کے بارے میں ایک نیا مفاہمت نامہ بھی دستخط کیا گیا ہے۔ دونوں فریق اپنے نازک انفراسٹرکچر کا بہتر تحفظ چاہتے ہیں اور سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ آئس لینڈ نیٹو کا ایک اہم رکن ہے اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو اسی بنیاد پر آگے بڑھانے کا ارادہ ہے، جیسا کہ کہا جا رہا ہے۔
آئس لینڈ اور یورپی یونین کے درمیان رکنیت کی سابقہ بات چیت 2015 میں رک گئی تھی۔ آئس لینڈ کے اہم اعتراضات قومی ماہی گیری کے شعبے کے تحفظ سے متعلق تھے۔ بہت سے آئس لینڈرز کو خدشہ تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت کے باعث وہ اپنے ماہی گیری علاقوں پر کنٹرول کھو دیں گے، جو ملک کے لیے معاشی اور علامتی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
آئس لینڈ کی حکومت کے مطابق صورتحال اب بدل چکی ہے۔ یورپی توانائی بحران اور روس کی جانب سے شدید ہوتی ہوئی سیکورٹی خطرات نے ریکیاوک کی سوچ کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، عوام میں یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے حمایت بھی بڑھ گئی ہے، جو حکومت کو دوبارہ یورپی یونین کے راستے کو دریافت کرنے کی گنجائش دیتی ہے۔
صنعتی وزیر حنا کاٹرین فریڈریکسن نے نئی گفتگو کو ایک “پہلا قدم” قرار دیا ہے اور یورپ کے ساتھ تعاون کی خواہش میں اضافہ کو اجاگر کیا ہے۔ کمیشن کی صدر ارسولا فون ڈیر لائیئن نے کہا ہے کہ آئس لینڈ کی یورپی یونین رکنیت کی اصل درخواست ابھی بھی معتبر ہے۔ انہوں نے آئس لینڈ کو ایک “اہم ساتھی” کے طور پر بیان کیا اور مزید تعاون کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ ابھی رکنیت کی باقاعدہ مذاکرات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن رکنیت کے حوالے سے دائرہ کار دوبارہ زیر غور ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ماہی گیری کے شعبے سے جڑے حساس معاملات بھی موجود ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج آئندہ عمل کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔

