لیکن اس موسمِ خزاں میں یورپی یونین کے ممالک کے سربیا کو مکمل رکنیت دینے کا امکان کافی کم ہوا ہے، خصوصاً جب قوم پرست اور روس نواز صدر الیگزینڈر وُچِچ اس سال کے آخر میں وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں اور یوں بیلگراد میں اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔
انتخابات 25 اکتوبر کو متوقع ہیں۔ وُچِچ صدر کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے اور وہ وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں۔ اس سے انتخابات ان کی اقتدار کی پوزیشن اور سربیا کی سیاسی سمت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ملاڈِچ
پچھلے ہفتے جنگی جرائم پیشہ راٹکو ملاڈِچ کی نصف سرکاری تدفین نے بھی کئی یورپی ممالک میں ناپسندیدگی پیدا کی۔ بوسنیا-سربیا کی فوج کے سابق کمانڈر ایک ہفتے سے زائد پہلے ہیگ کی اقوامِ متحدہ کی سزا خانہ میں انتقال کر گئے تھے، جہاں انہیں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
Promotion
براسلز کو ایک ہی وقت میں وُچِچ کو برسوں تک بہت زیادہ آزادی دینے کا بھی الزام دیا جاتا ہے۔ خدشہ تھا کہ یورپی دباؤ سے سربیا مزید روس یا چین کے قریب ہو جائے گا۔ اگرچہ بیلگراد کا اقتصادی تعلق یورپی یونین کے ساتھ قریبی ہے، انہوں نے ماسکو کے ساتھ بھی گہری شراکت داری قائم کی ہے۔
معطل
یورپی یونین جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آزاد اداروں میں حقیقی اصلاحات کا مطالبہ کرتی ہے۔ رکنیت کا عمل کافی عرصے سے جامد ہے۔ مغربی بَلکان کے لیے یورپی ترقیاتی منصوبے کی مزید ادائیگیاں اب عدلیہ کی آزادی کی تشویشات کی بنا پر روکی گئی ہیں۔
براسلز کے ساتھ مسائل صرف تدفین تک محدود نہیں ہیں۔ سربیا نے روس کے خلاف یورپی پابندیوں میں شامل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ جمہوری معیارات، قانون کی حکمرانی اور آزادیٔ صحافت کے زوال پر معاملہ طویل عرصے سے تنقید کا موضوع ہے اور وہ اصلاحات جن کا وعدہ بیلگراد نے رکنیت کے عمل کے لیے کیا تھا، وہ بھی نہ ہونے کے برابر رہیں۔
احتجاجات
وُچِچ کو اندرونِ ملک بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ نووی ساڈ کے اسٹیشن کے قریب مہلک حادثے کے بعد طویل عرصے سے طلبہ کے مظاہرے شروع ہوئے جو بدعنوانی اور ان کی حکومت کے خلاف وسیع احتجاجات میں تبدیل ہوگئے۔ مبینہ طور پر طلبہ، کارکنوں اور حزبِ اختلاف کے خلاف جاسوسی سوفٹ ویئر کے استعمال نے بھی یورپی پارلیمنٹ میں کارروائی کی اپیلیں پیدا کی ہیں۔
نیدرلینڈز ان یورپی ممالک میں سے ہے جس نے دو سال قبل ہی بیلگراد کے ساتھ ممکنہ رکنیت مذاکرات کی مخالفت کی تھی۔ اس سال کے آخر میں یورپی یونین متعدد امیدواروں کی درخواستوں پر فیصلہ کرے گا۔ تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق صرف مونٹی نیگرو کو امیدوار بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یوکرین اور مالڈووا کے لیے علیحدہ فیصلہ کیا جائے گا۔

