ایک نئی یورپی تحقیق کے مطابق PFAS آلودگی کی صفائی کا خرچ 2050 تک (یعنی اگلی نسل تک) تقریباً 440 ارب یورو ہو سکتا ہے۔ یہ اخراجات پانی، زمین اور حیاتیاتی ماحول سے ان مادوں کو نکالنے کے لئے ہوں گے۔
ایک غیر سازگار صورتحال میں، جس میں آلودگی مزید بڑھ جائے یا اقدامات نہ کیے جائیں، اخراجات ایک کھرب یورو سے بھی تجاوز کر سکتے ہیں۔ اس سے حکومتوں اور معاشرے پر طویل مدتی مالی بوجھ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔
پانی کا معیار
اسی دوران EU ممالک نے سطحی اور زیرزمین پانی کے لیے سخت قوانین کی منظوری دی ہے۔ بعض PFAS اور دیگر آلودہ کرنے والے مادوں کے لیے معیار کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ پانی کے معیار کی بہتر حفاظت کی جا سکے۔
Promotion
تاہم، PFAS کے اخراج یا پیداوار پر مکمل پابندی ان نئے پانی کے قواعد کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح کئی متعلقہ افراد کے مطابق مسئلے کی جڑ اب بھی برقرار ہے۔
PFAS کو ایسے مادے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو بمشکل ٹوٹتے ہیں اور ماحول و جانداروں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں اور پانی و زمین کے ذریعہ پھیل جاتے ہیں۔
ماحولیاتی تنظیمیں مزید اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سخت معیار کافی نہیں اور نئی آلودگی کو روکنے کے لئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
تأخیر کا خطرہ
مزید برآں، وہ یورپی کیمیائی قانون سازی کے نظرثانی میں تاخیر کی نشاندہی کرتی ہیں۔ REACH ضابطے کی اصلاحات کی منصوبہ بندی تھی تاہم یہ تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔
سماجی تنظیموں کے مطابق اس نظرثانی کا مقصد ایسے آلودگی بحرانوں کی روک تھام ہونا چاہیے جیسا کہ PFAS کے معاملے میں ہوا۔ وہ زور دیتے ہیں کہ کیمیائی آلودگی سنگین بیماریوں اور معاشرتی خرچوں میں اضافہ کرتی ہے۔
اس دوران، کیمیائی شعبہ ایسے سخت اقدامات کو محدود یا ملتوی کرنے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صرف قوانین کی بنیادی تبدیلی ہی مزید مالی بوجھ کو روک سکتی ہے۔

