جارج سمیون نے رومانیہ کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ ان کی پارٹی کو پرو-روسی سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے ممنوعہ انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات ملک میں مزید پولرائزیشن کے خوف کو بڑھاتی ہے۔
یورپی یونین رومانیہ میں ہونے والے حالات کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ کئی یورپی رہنما خوف زدہ ہیں کہ انتخابات ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں اور روسی اثر و رسوخ میں اضافہ کریں گے۔ وہ مشرقی یورپی ممالک میں سابقہ کشیدگیوں کے مشابہت دیکھتے ہیں جہاں ماسکو نے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔
صورتحال کو داخلی تقسیم مزید خراب کر رہی ہے۔ رومانیہ نے پچھلے برسوں میں سیاسی عدم استحکام کے کئی دور دیکھے ہیں جن میں حریف جماعتوں نے ایک دوسرے پر بدعنوانی اور طاقت کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے۔ یہ الزامات دوسرے انتخابی مرحلے کے آغاز پر دوبارہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔
رومانیہ کی انتخابی کمیشن کو Romania Insider کے مطابق ایک متنازعہ ریفرنڈم کو کالعدم قرار دینا پڑا کیونکہ اسے سمیون کی طرف سے انتخابی مہم کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ انتخابات کے شفاف انعقاد اور جمہوری عمل کی ممکنہ چالاکیوں کے حوالے سے خدشات کو بڑھاتا ہے۔
رومانیہ میں روسی اثر ورسوخ پر بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہفتہ وار میگزین Newsweek اور نیوز ایجنسی Reuters نے رپورٹ کیا ہے کہ ماسکو ممکنہ طور پر ڈیجیٹل ذرائع سے عوامی مباحثے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی دوران رومانیہ میں مخالف آوازیں بھی زور پکڑ رہی ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ وہ سمیون کی ترقی کو روک سکیں گی یا نہیں۔
سمیون روایتی اقدار اور قوم پرستی کی حمایت کرتے ہیں، اور وہ بوخارست اور برسلز کی قائم شدہ اشرافیہ کے سخت مخالف ہیں۔ ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ یہ بیانیہ نہ صرف تقسیم کو ہوا دیتا ہے بلکہ ملک کو خاص طور پر روس سے آنے والی غیر ملکی مداخلت کے لیے بھی نازک بناتا ہے۔

