کمپنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ پچھلے مقدمات میں بھاری معاوضے دئیے جا چکے ہیں۔
حال ہی میں منعقدہ شیئر ہولڈرز کی میٹنگ میں بائر نے تصدیق کی کہ کمپنی جاری قانونی اخراجات اٹھانے کے لیے کافی فنڈز مختص کر رہی ہے۔ بڑے سرمایہ کاروں نے راؤنڈ اپ سے متعلق جاری بحران ختم کرنے کے لیے واضح حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ انتظامیہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ موجودہ حالات ناقابل قبول ہیں اور متبادل طریقے تلاش کر رہی ہے۔
متعدد امریکی مقدمات میں راؤنڈ اپ کو کینسر پیدا کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔ بائر ان دعووں کو مسترد کرتا ہے مگر اب تک کئی مقدمات ہار چکا ہے جس کی وجہ سے اربوں ڈالر کے معاوضے کا حکم دیا گیا ہے۔ قانونی بوجھ کمپنی کی مالی کارکردگی پر تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔
بائر کا کہنا ہے کہ ایسا وقت آ سکتا ہے جب راؤنڈ اپ کی فروخت مکمل طور پر روکنا لازمی ہو جائے گا۔ کمپنی کے مطابق، موجودہ ماڈل قانونی تنازعات کے جاری رہنے کی صورت میں پائیدار نہیں رہے گا۔ یہ کمپنی کی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ پوزیشن پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
CEO بل اینڈرسن نے کہا کہ بائر منافع بخش راہ پر واپس آنے کے لیے ایک منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس میں مختلف منظرناموں پر غور کیا جا رہا ہے جن میں راؤنڈ اپ کو مارکیٹ سے نکالنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اینڈرسن نے بتایا کہ قانونی مسائل بائر کے مستقبل کے منصوبوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
کچھ شیئر ہولڈرز نے بائر کی طرف سے مونسانٹو کے حصول کے طریقہ کار پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راؤنڈ اپ کے قانونی خطرات کو مناسب طریقے سے نہیں جانچا گیا۔ اب انتظامیہ سے توقع ہے کہ وہ جلد از جلد فیصلہ کرے گا تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔
یورپ اور دیگر جگہوں پر گلیفوس ایٹ فی الحال اجازت یافتہ ہے اگرچہ وہاں بھی استعمال پر بحث جاری ہے۔ بائر کا کہنا ہے کہ راؤنڈ اپ درست استعمال پر محفوظ ہے لیکن عوامی تاثر اور قانونی حقیقت کمپنی پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہی ہے۔
گزشتہ جمعہ کو ہونے والی شیئر ہولڈرز کی میٹنگ بائر کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے۔ قانونی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز کے ساتھ کمپنی طویل مدتی حل تلاش کرنے کے لیے وقت خریدنا چاہتی ہے۔ اگرچہ راؤنڈ اپ کے مستقل خاتمے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا مگر یہ امکان اب واضح طور پر زیر غور ہے۔

