یہ محصولات فی الحال عارضی نوعیت کے ہیں، لیکن دو ماہ بعد مستقل ہو جائیں گے۔ چین نے یہ قدم پچھلے ہفتے یورپی سور کا گوشت کی درآمد پر عائد جرمانوں کے ساتھ بھی اٹھایا تھا۔ اگرچہ وہاں محصولات کم مقرر کیے گئے تھے، مگر ان کی مدت کئی سالوں تک طویل رکھی گئی ہے۔
ڈیری مصنوعات پر لگنے والی شرح محصول 21.9% سے 42.7% کے درمیان مختلف ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ محصولات یورپی ڈیری سیکٹر کو دی جانے والی یورپی یونین کی سبسڈیز سے متعلق ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے سبسڈی یافتہ ڈیری مصنوعات چینی ڈیری صنعت کو نقصان پہنچاتی ہیں، تاہم اس نقصان کے حجم یا نوعیت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
مثال کے طور پر، ڈچ ڈیری کمپنی FrieslandCampina ان مصنوعات میں شامل ہے جن پر بلند ترین محصول عائد ہوتا ہے، جب کہ اطالوی کمپنی Sterilgarda Alimenti کو سب سے کم شرح دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ متعدد یورپی ممالک، جن میں فرانس، جرمنی اور ڈنمارک شامل ہیں، کی ڈیری کمپنیز بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ اس اقدام سے یورپی ڈیری شعبے کے وسیع حصے پر اثر پڑتا ہے۔
ڈیری پر عائد یہ محصولات اکیلے نہیں ہیں۔ چین اس قدم کو چینی اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں لے کر آتا ہے اور اسے ایک بڑھتے ہوئے تنازعے کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اس وسیع تر پس منظر میں چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی یورپی بڑی درآمدات اور برسلز کی جانب سے ان پر لگائی گئی پابندیوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ڈیری مصنوعات کے محصولات کو اس وسیع تر معاملے میں ایک ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں دونوں فریق تجارتی اقدامات کے ذریعے ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ڈیری اس طرح ایک نیا تنازعہ بن گیا ہے۔ یورپی پیداوار کاروں اور چینی مارکیٹ پر اس کے عین نتائج ابھی واضح نہیں ہیں، البتہ یہ معلوم ہے کہ بچوں کے دودھ کے پاؤڈر کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

