آڈٹ روم کی رپورٹ اس تجزیے کے بعد آئی ہے جس میں پہلے ہی ظاہر ہو چکا تھا کہ یورپ میں زمینوں کا 60 سے 70 فیصد حصہ غیرصحت مند ہے، جس کی ایک وجہ خراب زمینی اور کھاد کا انتظام بھی ہے۔
زرعی شعبہ میں کھاد کے زیادتی سے استعمال کا پانی کے معیار اور حیاتی تنوع پر منفی اثر پڑتا ہے، لیکن اس کے خلاف بہت کم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نائٹریٹ ہدایت کے تحت مویشیوں کی کھاد سے نکلنے والے نائٹروجن کے استعمال کو محدود ہی کیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے آڈیٹرز کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان تقریباً 85 ارب یورو زرعی سبسڈی زمینی معیار کے لیے خرچ کی گئی ہے۔ لیکن یہ اثرات نا کافی رہے کیونکہ یورپی یونین کے ممالک ایسی سبسڈیوں کے ساتھ زیادہ شرائط نہیں لگاتے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یورپی ممالک کو شدید زمینی مسائل والے علاقوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے چاہیے تھے۔
یورپی کمیشن کے پاس یہ بھی کوئی اچھا جائزہ نہیں ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کھاد کے انتظام کے معیار کو کس طرح نافذ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی یورپی اوسط بھی مرتب نہیں کی جا سکتی۔
بروسلز نے حال ہی میں ’صاف زمین کے ضابطے‘ کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے مگر یہ ابھی عملی طور پر بہت دور ہے۔ اس ہدایت نامے پر آنے والے مہینوں میں یورپی پارلیمنٹ اور ماحولیاتی وزرا غور کریں گے۔ یورپی یونین کا مقصد ہے کہ 2050 تک صحت مند زمینیں دستیاب ہوں۔

