یہ ملک یورپی یونین کی رکنیت چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے اسے ریاستی نظام میں بہتری لانا ہوگی۔ یورپی یونین امدادی ادائیگیوں کو ان اصلاحات میں قابل پیمائش پیش رفت سے مشروط کرتی ہے۔
یوکرین نے یورپی یونین کے ساتھ سولہ ایسے پالیسی شعبوں پر اتفاق کیا ہے جن میں اصلاحات کرنا ضروری ہیں تاکہ وہ رکنیت کے اہل ہو سکے۔ یہ شعبے قانونی اصلاحات سے لے کر معاشی شفافیت تک محیط ہیں۔
ہر ماہ پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر تشخیص منفی ہو تو اس کا براہِ راست اثر مالی معاونت کی مقدار اور رفتار پر پڑ سکتا ہے۔
حال ہی میں کیے گئے جائزے میں برسلز نے امدادی پیکیج کی چوتھی قسط کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوکرین کو اب 3.05 ارب یورو دیے جائیں گے بجائے پہلے کے متوقع 4.5 ارب یورو کے۔ یہ 1.45 ارب یورو کی کمی اصلاحات میں تاخیر کی وجہ سے ہے۔
ایک نیا اور خاص توجہ طلب نکتہ دو قومی اینٹی کرپشن بیورو کی اصلاحات ہیں۔ یورپی یونین کیف سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ ان اداروں کے اختیارات کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔
جب تک یہ وضاحت نہیں آتی، برسلز اضافی ادائیگیاں نہیں کرے گا۔ یورپی کمیشن خودمختار کرپشن مخالف کارروائی کو مزید امداد کی بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
منتقدین کے مطابق اینٹی کرپشن اداروں کی تحقیقات محدود ہو سکتی ہیں۔ مجوزہ اصلاحات سے ممکن ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کو ان اداروں پر زیادہ اختیار مل جائے، جو ان کی سیاسی خودمختاری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ کیف کا مؤقف ہے کہ اس میں مداخلت نہیں اور اصلاحات کا مقصد کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔
یوکرین نے پچھلے مہینوں میں کئی شعبوں میں پیش رفت کی ہے، لیکن یہ رفتار ہر جگہ کافی نہیں دکھائی دیتی۔ یورپی عہدیدار زور دیتے ہیں کہ یوکرین کو ایک معتبر پالیسی جاری رکھنی ہوگی۔ تب ہی یورپی یونین کے اداروں کا اعتماد قائم رہے گا اور اگلی قسطوں کی مالی امداد دستیاب ہوگی۔
اگرچہ کیف زور دیتا ہے کہ اصلاحاتی عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے، لیکن یورپی یونین 'کارکردگی کے بدلے پیسے' کے اصول پر قائم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مزید مالی امداد صرف اس وقت دی جائے گی جب قابلِ دید اصلاحات کی جائیں گی۔

