یورپی یونین جمعرات کو ایک اضافی اجلاس میں اقتصادی دباؤ کے خلاف آلے کے استعمال پر بات چیت کرے گی۔ یہ ذریعہ ان ممالک کو سزا دینے کے لیے ہے جو تجارتی معاملات کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسے ایک سخت آپشن سمجھا جاتا ہے اور ابھی تک اسے فعال نہیں کیا گیا، مگر اس پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس اینٹی دباؤ پیکیج کے علاوہ دیگر تجارتی اقدامات کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے سفیروں نے اتوار کو نتیجہ اخذ کیا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو بلاک کے پاس جلد سے جلد واضح اور عملی اختیارات ہونے چاہئیں۔ اس میں پہلے معطل کی گئی درآمدی محصول دوبارہ نافذ کرنے کا امکان شامل ہے۔
یورپی رہنما اس ہفتے فوری مشاورت کے لیے ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں، ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ڈیووس میں امریکی صدر سے ملاقات کی منصوبہ بندی ہے۔ اس کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں کا ایک الگ اجلاس متوقع ہے تاکہ آگے کے اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔
یورپی پارلیمنٹ نے بھی اپنا موقف دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ اس ہفتے اسٹریسبورگ میں یہ فیصلہ کرنا چاہتی ہے کہ پچھلے سال کے آخر میں طے پانے والے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کو منجمد کیا جائے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ 15 فیصد درآمدی محصول لگاتا ہے اور یورپ اضافی محصولات سے گریز کرتا ہے۔
یورپی یونین میں ساتھ ہی احتیاط سے کام لینے کی بھی آواز بلند ہو رہی ہے۔ سفارت کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دارالحکومت صحیح راہ منتخب کرنے کے لیے وقت لینا چاہتے ہیں۔ ردعمل پر وسیع حمایت موجود ہے، مگر بغیر غور و فکر کے تیزی سے تنازعہ بڑھانا قبول نہیں کیا جاتا۔
اس اجلاس کی وجہ امریکی صدر کی جانب سے آٹھ یورپی ممالک کے خلاف خصوصی درآمدی محصولات عائد کرنے کا اعلان ہے۔ یہ دس فیصد محصولات یکم فروری کو نافذ کیے جائیں گے اور اگر گرین لینڈ پر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو جون کے آغاز میں یہ 25 فیصد تک بڑھ جائیں گے۔
یہ محصولات تمام اشیاء پر لاگو ہوں گے جو متحدہ ریاستوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔ یہ پابندیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکی صدر کے بقول گرین لینڈ کے حوالے سے مکمل اور جامع معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ یہ واضح نہیں کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد کیا ہے۔
تجارتی تنازع کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ میں عسکری موجودگی بھی بڑھ گئی ہے۔ یورپی نیٹو ممالک نے مشترکہ مشقوں کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں بھیجی ہیں۔ امریکہ نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے، جب کہ یورپی حکومتیں اسے شفاف دفاعی اقدامات قرار دے رہی ہیں۔

