بڑے تجارتی معاہدے کے ذریعے، یورپی یونین خود کو بین الاقوامی اقتصادی سپر پاورز کے درمیان نمایاں طور پر قائم کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے، یورپی یونین خطرات کو تقسیم کرتی ہے اور اپنی برآمدی صلاحیتوں کو وسعت دیتی ہے۔
اس سے یورپی یونین امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر کم منحصر ہو جائے گی، جہاں صدر ٹرمپ کے دور میں پالیسی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے اور غیر یقینی صورتحال رہی ہے۔
اس وقت برسلز آسٹریلیا کے ساتھ بھی ایک بڑے تجارتی معاہدے پر کام کر رہا ہے، جبکہ چند جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ بھی تقریباً حتمی شکل میں ہے۔
یہ معاہدہ یورپ کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت آتا ہے جو خطرات کی تقسیم پر مبنی ہے۔ یورپی یونین چند بڑے تجارتی شراکت داروں پر کم انحصار کرنا چاہتی ہے اور مستحکم اور طویل المدتی شراکت داری کی تلاش میں ہے۔ ہندوستان کے ساتھ معاہدہ تقریباً دو ارب لوگوں کے لیے مارکیٹیں کھولتا ہے اور کئی سالوں کی جمود کے بعد ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
گذشتہ ہفتے نیو دہلی میں یورپی اور ہندؤستانی رہنماؤں نے اس معاہدے کا جشن منایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ صرف اقتصادی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اس کا سیاسی بھی ایک واضح مطلب ہے۔
معاہدہ متقابل مارکیٹ کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہندوستان یورپی برآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدی محصول کی شرحوں کو کم یا ختم کرے گا، جبکہ یورپی یونین بھی تقریباً تمام ہندوستانی اشیاء کے لیے ایسا کرے گی، تجارتی قدر کے لحاظ سے۔
یورپ کو گاڑیوں اور شراب کی صنعتوں جیسے شعبوں میں بہتر رسائی ملے گی۔ ہندوستان کو طب اور خدمات کے شعبوں میں رعایتیں ملیں گی، نیز مزید تعاون کے وعدے بھی کیے گئے ہیں۔
زرعی شعبہ اس معاہدے میں محدود کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں پارٹیاں یہاں احتیاط سے کام کر رہی ہیں تاکہ سیاسی مخالفت سے اجتناب کیا جا سکے، جو سابقہ تجارتی معاہدوں میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔
معاہدے کو مزید تفصیل سے تیار اور نافذ کیا جانا ہے۔ کچھ شعبوں، بشمول اسٹیل اور ماحولیاتی محصولوں کے متعلق حتمی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔ ان تفصیلات کو آئندہ مذاکرات میں حتمی شکل دی جائے گی۔

