کارنی نے کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا 'معاون رکن' بنانے کے تجویز کا خیرمقدم کیا۔ کینیڈا یورپی یونین کا مکمل رکن بننا نہیں چاہتا۔ کارنی کے نزدیک نئی تعلقات کا نام کم اہم ہے اور مواد زیادہ اہم ہے۔ چونکہ 'معاون رکنیت' ابھی موجود نہیں، اس لئے اسے مزید تفصیل سے وضع کیا جانا چاہیے۔
تجارتی تنازعات
یہ قربت کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازع کے دوران سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے کینیڈا پر درآمدی محصولات بڑھائے ہیں اور بدھ کو یورپ کو بھی سخت تجارتی اقدامات کی دھمکی دی۔ اگر معاون رکنیت 'دشمنانہ عمل' ثابت ہوئی تو ٹرمپ بھاری درآمدی جرمانے لگا سکتا ہے یا یورپ کے ساتھ تجارتی تعلقات کئی شعبوں میں معطل کر سکتا ہے۔
کارنی نے اپنی بات پر قائم رہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ٹرمپ کا نام نہیں لیا لیکن واضح کیا کہ کینیڈا دوسرے ممالک کی معاشی دباؤ سے کم متاثر ہونا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا اور یورپ کوئی نئی طاقت کا ہِتھوڑا بنانا نہیں چاہتے اور نہ ہی دیگر ممالک پر حکمرانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
Promotion
کوئی امریکہ مخالف بات نہیں
کینیڈا کے وزیراعظم نے زور دیا کہ یورپ کے ساتھ قریبی تعاون کا مقصد امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ان کے بقول، یورپ کے ساتھ مضبوط اتحاد کینیڈا کو امریکہ کا بہتر شراکت دار بنائے گا۔ یورپی کمیشن نے بھی کہا کہ کینیڈا کے ساتھ قریبی تعلقات کسی کے خلاف نہیں بلکہ دونوں فریقوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا نہ تو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی 51 ویں ریاست بننا چاہتا ہے اور نہ ہی یورپی یونین کا 28 واں رکن۔
یورپی پارلیمنٹ میں داخلے پر کارنی کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان ان سے ہاتھ ملانے اور سیلفیاں لینے کے لیے آئے۔ اپنے خطاب کے بعد انہیں کھڑے ہو کر تالیوں سے نوازا گیا۔ ایک دن قبل کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈر لین کے کینیڈا کے ساتھ نئے تعلقات کے منصوبے کو بھی کھڑے ہو کر تالیوں سے سراہا گیا تھا۔
تجارت اور دفاع
کارنی چاہتے ہیں کہ تعاون ایسے شعبوں میں بڑھایا جائے جو کینیڈا اور یورپ کی معاشی اور سیاسی خودمختاری کے لئے اہم ہیں۔ انہوں نے دفاع، نایاب زمینوں کی اشیا، مصنوعی ذہانت، توانائی، خلائی تحقیق اور مالی خدمات کا ذکر کیا۔ وہ کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ڈیجیٹل تجارت کو بھی آسان بنانا چاہتے ہیں۔
دفاع کے میدان میں پہلے ہی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ کینیڈا بطور غیر یورپی ملک SAFE پروگرام میں حصہ لیتا ہے، جو ملٹی نیشنل دفاعی سازوسامان کی مشترکہ خریداری کا یورپی منصوبہ ہے۔ اس کے تحت کینیڈا کی کمپنیاں مشترکہ بولیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔ کینیڈا اور یورپی یونین اپنے دفاعی صنعتی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
معاشی طور پر بھی گہری تعاون کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ایک جامع آزاد تجارتی معاہدہ ہے، حالانکہ 27 میں سے 10 یورپی ممالک نے ابھی اسے منظور نہیں کیا ہے۔ کارنی کا ارادہ ہے کہ وہ خام مال، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھائیں اور دیگر ممالک پر معاشی انحصار کم کریں۔
تیاری مرحلے میں
معاون رکنیت کی حتمی شکل ابھی گفت و شنید کا موضوع ہے۔ موجودہ یورپی قوانین میں یہ حیثیت موجود نہیں اور یورپی ممالک کو اسے وضع کرنا ہوگا۔ اس پر یورپی ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کو اتفاق کرنا ہے۔ کارنی نے اعلان کیا ہے کہ نئی تعاون کی تجاویز کینیڈا کی پارلیمنٹ میں بھی زیر بحث آئیں گی اور وہاں سے منظوری حاصل کی جائے گی۔

