بریٹن کو واشنگٹن یورپی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے ذہن ساز کے طور پر بیان کرتا ہے، یہ وہ قانون ہے جو آن لائن پلیٹ فارمز اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو سخت مانیٹرنگ اور زیادہ شفافیت پر مجبور کرتا ہے۔
ڈیجیٹل سروسز ایکٹ یورپی قانون سازی ہے جو بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو اطلاعات میں غلط بیانی اور نفرت انگیز گفتار کے خلاف اقدامات کرنے کا پابند بناتی ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اس قانون پر سخت تنقید ہوئی ہے، خاص طور پر قدامت پسند حلقوں میں جو سمجھتے ہیں کہ یہ EU قانون دائیں بازو کی آراء کو دبانے کے لیے ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے افراد اور تنظیموں کے خلاف ہیں جو امریکی انٹرنیٹ کے بڑے اداروں کو ایسے بیانات کو دبا نے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جن سے یورپی اتفاق نہیں رکھتے۔ واشنگٹن اس انداز کو سنسرشپ قرار دیتا ہے۔
بریٹن کے علاوہ ایسے نمائندے جنہوں نے آن لائن غلط معلومات اور نفرت انگیز زبان سے لڑنے والے اداروں کی نمائندگی کی ہے بھی اس پابندی کا شکار ہیں۔ ان میں سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ، گلوبل ڈس انفارمیشن انڈیکس، اور جرمن تنظیم ہیٹ ایڈ کے حکام شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ افراد اور ادارے اس ’عالمی سنسرشپ انڈسٹریل کمپلیکس‘ کا حصہ ہیں جس کا وہ ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ امریکی اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت آتا ہے اور واشنگٹن صرف امریکی خود مختاری کی حفاظت چاہتا ہے۔
متعلقہ یورپی افراد اور ادارے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اقدامات ناقدین کو دھمکانے اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ریگولیشن پر بحث کو روکنے کی کوشش ہیں۔ بیانات میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ظلم اور سرکاری دباؤ ہے۔
گزشتہ خزاں، جب صدر ٹرمپ نے EU مصنوعات پر زیادہ درآمدی ٹیکس عائد کیے، تو امریکی عہدیداروں نے اشارہ دیا تھا کہ اگر EU، امریکی کمپنیوں جیسے فیس بک اور X کے خلاف ڈی ایس اے جرمانوں سے دستبردار ہوجائے تو واشنگٹن درآمدی ٹیکس کم کرنے پر آمادہ ہے۔ یورپی حکام نے اس کو ’امریکی بلیک میلنگ‘ قرار دیا تھا۔
سابق کمشنر تھیری بریٹن نے سفری پابندی پر عوامی ردعمل میں اسے جادو کی شکار کی مانند قرار دیا۔ انہوں نے X پر لکھا: ’ہمارے امریکی دوستوں کے لیے: سنسرشپ وہاں نہیں ہے جہاں آپ سمجھتے ہیں۔‘ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ جمہوری طور پر بنایا گیا ہے۔
یورپ میں بھی امریکی فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر ہوا۔ فرانسیسی صدر ایما نیوئل میکرون نے ویزا کی انکار کو ’دھمکی‘ اور ’زبردستی‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ ان کے بقول امریکہ یورپ کی ڈیجیٹل خود مختاری کو کمزور کر رہا ہے۔

