یہ انتخابات سابق سوویت جمہوریہ کے لیے ایک وجودی انتخاب کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جس کی آبادی 2.4 ملین ہے، جو رومانیہ اور جنگ سے متاثرہ یوکرین کے درمیان محصور ہے۔ دریائے ڈنسٹر کے مشرق میں واقع ترانسنیسٹریا صوبہ کئی سالوں سے روسی فوجیوں کے زیر قبضہ ہے۔
صدر مایا سندو اور ان کی یورپ نواز پارٹی، پارٹیشن فار ایکشن اینڈ سولڈیریٹی، یورپی یونین کی جانب اصلاحاتی راستہ جاری رکھنا چاہتی ہے، جبکہ پرو-روسی پیٹریاٹک الیکشن بلاک ایک سنجیدہ حریف کے طور پر سامنے ہے۔
یورپی یونین نے گزشتہ چند ہفتوں میں اپنی حمایت واضح طور پر بڑھا دی ہے۔ سندو کو سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کی طرف سے کھڑے ہو کر تالیوں سے نوازا گیا اور انہوں نے دارالحکومت کیشیناؤ میں ایما نیول میکرون کے ساتھ مشترکہ طور پر تقریر کی۔ میکرون نے مولدووا کی خود مختاری کا دفاع ماسکو کے دباؤ کے خلاف کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد برسلز نے ایک بڑے اصلاحاتی فنڈ کے تحت تقریباً انیس لاکھ یورو جاری کیے۔
آنے والے انتخابات کا نتیجہ یہ طے کرے گا کہ آیا برسلز روسی دباؤ کے مقابلے میں ایک پرکشش متبادل فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔ پرو-روسی اپوزیشن کی جیت مولدووا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کو روک دے گی اور کریملن کو یورپ کی سرحد پر ایک نمائندہ فتح دے گی۔
مولوڈووایی حکام اس دوران روس سے بڑی سطح پر مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق سویا اربوں یورو ملک میں داخل کیے جا چکے ہیں تاکہ ووٹ خریدے جا سکیں اور افراتفری پیدا کی جا سکے۔ ٹک ٹوک اور ٹیلیگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہمات چلائی گئی ہیں تاکہ وزیر اعظم سندو کو آمرانہ رہنما کے طور پر پیش کیا جائے اور یورپی یونین کی فوجی تعیناتی کے ممکنہ قیاس آرائیاں پھیلائی جائیں۔
اولیگارک ایلان شور سے منسلک نیٹ ورکس اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں پہلے برسلز نے بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہونے کے سبب سزا دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ بُوت پر مبنی پروپیگنڈا کا استعمال کرتے ہوئے عوامی مباحثہ متاثر کرنے اور یورپ کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح ترانسنیسٹریا کے علاقے میں بھی، جو نوے کی دہائی میں الگ ہو گیا تھا مگر عالمی سطح پر کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا، غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ رہائشی اپنی وفاداری کو لے کر تقسیم ہیں اور کیشیناؤ اور ماسکو دونوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی ووٹنگ بھی نتیجے کا تعین کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر توجہ بہت زیادہ ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ میں زور دیا کہ یورپ مولدووا کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سندو نے خود یورپی پارلیمنٹ میں انتخابات کی اہمیت کو وجودی قرار دیا۔ ان کے مطابق یورپی راستہ صرف اقدار کا معاملہ نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔

