یہ اقدام اس کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتیں اور مفاداتی گروپس انتخابات سے صرف کچھ وقت پہلے ایک اہم اشتہاری چینل تک رسائی کھو دیں گے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ موجودہ یورپی یونین کے قوانین غیر واضح اور مشکل عمل درآمد والے ہیں۔
یورپی یونین انٹرنیٹ پر سیاسی اشتہارات نشر کرنے والوں سے مکمل شفافیت کا تقاضا کرتی ہے، جو برطانیہ میں انتخابات میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے بعد بڑھ گئی ہے۔
صرف سیاسی اشتہارات ہی ختم نہیں کیے جا رہے، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی، ہجرت اور عوامی صحت جیسے موضوعات پر مبنی اشتہارات بھی صارفین کے پروفائلز کے مطابق ذاتی نوعیت کے مطابق نہیں ہوں گے۔ اس سے اشتہاری کمپنیوں کے لیے مخصوص ووٹر گروپس کو نشانہ بنانا مشکل ہو جائے گا۔ یہ اقدام صرف یورپی یونین میں نافذ ہو گا اور اکتوبر 2025 سے لاگو ہوگا۔
میٹا واحد ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں ہے جو اس طرح کے اقدام کر رہا ہے۔ گوگل نے پہلے ہی مخصوص سیاسی اشتہارات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں کمپنیاں نئی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت کام کرنا چاہتی ہیں، جو اگست میں مکمل طور پر نافذ العمل ہو گا اور پلیٹ فارمز کو معلومات اور اشتہارات کے معاملے میں زیادہ شفاف اور ذمہ دار بننے کے لیے مجبور کرتا ہے۔
ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) ایک یورپی قانون ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صارفین کو دھوکہ دہی، جعلی خبریں اور منیپولیشن سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو دکھانا ہوگا کہ اشتہارات کے پیچھے کون ہے، الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں اور کون سا مواد حذف یا نشان زد کیا گیا ہے۔ انہیں آزادانہ تفتیش اور شکایات کے عمل کا بھی بندوبست کرنا ہوگا۔
میٹا کے مطابق DSA کی تمام ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہے، خاص طور پر جب بات تمام 24 سرکاری یورپی یونین زبانوں میں سیاسی پیغامات کی شناخت کی ہو۔ ‘‘سیاسی’’ کہاں تک ہے، اس کا تعین کرنا عملی طور پر پیچیدہ ثابت ہو رہا ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشتہارات کو بند کرنا واحد ممکنہ حل ہے۔
سیاسی اشتہارات کی پابندی نے امریکی سیاستدانوں اور ٹیکنالوجی صنعت کے سربراہان کی جانب سے سخت تنقید کو جنم دیا ہے۔ ناقدین یورپی قوانین کو ابہام، بیوروکریسی اور بازار میں خلل ڈالنے والا قرار دیتے ہیں۔ ایلون مسک نے یورپی قواعد کو پہلے ‘‘نوآوری کے لیے رکاوٹ’’ کہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حکمت عملی کو ‘‘خطرناک قسم کی سنسر شپ’’ قرار دیا ہے۔
دوسری طرف، DSA کے حمایتی کہتے ہیں کہ یہ قوانین زیادہ منصفانہ انتخابات اور غیر ملکی مداخلت سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان کا حوالہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات میں منیپولیشن کافی عام رہی ہے۔ ان کے بقول ادائیگی شدہ مہمات میں شفافیت صحت مند جمہوری عمل کے لیے ضروری ہے۔

