نئی امریکی سلامتی کی حکمت عملی یورپ میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ مختلف دارالحکومتوں میں اس دستاویز کو مسترد کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ یورپی یونین کو ایک ایسے براعظم کے طور پر پیش کرتی ہے جو تہذیب کی کمی کی طرف جا رہا ہے اور جس کا سیاسی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ یورپی رہنما ان نتائج کو غیر منطقی اور ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی حکمت عملی کہتی ہے کہ یورپی ممالک میں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے، سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے اور سیاسی اپوزیشن کو مناسب جگہ نہیں دی جا رہی۔ یہ تصور یورپ میں وسیع پیمانے پر مسترد کیا جا رہا ہے۔ رہنما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے معاشرے خود فیصلہ کرتے ہیں کہ آزادیوں کو کیسے فروغ دیا جائے، بغیر بیرونی مداخلت کے۔
امریکی موقف برائے ہجرت پر بھی سخت تنقید کی جارہی ہے۔ حکمت عملی دعویٰ کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر ہجرت یورپی ممالک کی قومی شناخت کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور چند دہائیوں میں کچھ ممالک پہچانے سے باہر ہو سکتے ہیں۔ کئی یورپی سیاستدان اسے غیر مناسب اور تقسیم کرنے والا نظریہ کہتے ہیں جو الٹرا رائٹ پارٹیوں کے نظریات سے میل کھاتا ہے۔
ایک اہم نکتہ امریکی حمایت ہے ان 'محب وطن پارٹیوں' کی جو ٹرمپ کے سلامتی مشیروں کی طرف سے ابھرتے ہوئے اتحادی قرار دی گئی ہیں۔ یورپی رہنماان اس کو اپنے داخلی سیاسی معاملات میں براہ راست مداخلت سمجھتے ہیں اور اس امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔
مزید برآں، یورپی حکومتیں زور دیتی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلق مشترکہ سلامتی پر مبنی ہے، نہ کہ یورپی معاشروں کی کارکردگی پر تبصرہ کرنے کے لئے۔ وہ امریکہ کو ایک اہم اتحادی کہتے ہیں لیکن واشنگٹن کو ان کے جمہوری عمل کی رہنمائی نہیں کرنے دیتے۔
دوسری جانب، ماسکو میں بالکل مختلف رویہ نظر آتا ہے۔ روسی حکام امریکی حکمت عملی کو اپنی حکومت کے نظریے کے ساتھ کافی حد تک مطابقت رکھتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ امریکا کی نرم زبان ہے جو روس کے بارے میں استعمال کی گئی ہے اور روس کو واضح طور پر خطرہ قرار نہ دینا ہے۔
روسی ترجمانوں کے مطابق یہ مثبت بات ہے کہ حکمت عملی دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام لانے پر زور دیتی ہے۔ یہ ماسکو کی خواہش کے عین مطابق ہے کہ وہ خود کو کم مخالف اور زیادہ شراکت دار کے طور پر علاقائی اور عالمی مسائل میں پیش کرے۔
یورپی مخالفت اور روسی حمایت کے درمیان تضاد ایک حساس مسئلہ ظاہر کرتا ہے: ایسا دستاویز جو ٹرانس اٹلانٹک تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے تھا، وہ مغربی اتحادی میں ٹکراؤ پیدا کر رہا ہے۔ یورپی حکومتیں فکر مند ہیں کہ یورپی یونین کے خلاف سخت لہجہ اور روس کے خلاف نرم لہجہ ان کی سلامتی کی پوزیشن کو دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔
بروسلز اور قومی ردعمل میں بھی یہی پیغام سنائی دیتا ہے: امریکہ ایک اہم پارٹنر ہے، لیکن یورپ اپنا راستہ خود طے کرتا ہے۔ جب کہ ماسکو اس دستاویز کو قبول کر رہا ہے، یورپ واضح کر رہا ہے کہ امریکہ کا براعظم کے بارے میں تجزیہ مشترکہ نہیں اور یہ مستقبل کے تعاون کی بنیاد نہیں بنے گا۔

