چند ہفتوں میں TikTok، X اور Facebook جیسے کمپنیاں برسلز میں ایک ماہرین کی نشست کے دوران اس بارے میں آگاہ کی جائیں گی۔ وہاں انہیں یوروپی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے سخت قواعد سے آگاہ کیا جائے گا۔
نیدرلینڈ کی صارفین اور مارکیٹ اتھارٹی (ACM) اور یوروپی کمیشن آن لائن پلیٹ فارمز کو انتخابی عمل میں رائے دہندگان پر اثر انداز ہونے یا اس عمل کو متاثر کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ DSA کے تحت بڑی پلیٹ فارمز پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جھوٹی معلومات اور غلط استعمال کے خلاف پیشگی اقدامات کریں، خاص طور پر انتخابات کے دوران۔
یہ وارننگ حالیہ واقعات، خاص طور پر رومانیہ میں رونما ہونے والے انتخابی دور کے دوران ایک بڑے اور غیر واضح TikTok مہم کی وجہ سے بھی سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیوز کی بھرمار نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے خدشات کو جنم دیا۔ ملک کے ایک حصے میں تو انتخابی نتیجہ بھی کالعدم قرار دیا گیا۔
یوروپی کمیشن نے TikTok کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں DSA کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جیسے کہ سیاسی اشتہارات کی ناقص نگرانی اور مربوط جھوٹی معلوماتی مہمات کو نہیں روکنا۔ اس تحقیق کے نتیجے میں سخت سزائیں ہو سکتی ہیں۔
نیدرلینڈ میں ACM نے پلیٹ فارمز کو خطوط میں واضح کیا ہے کہ انتخابی دنوں میں انہیں خاص خیال رکھنا ہوگا کہ ان کی خدمات سیاسی عام تاثرات یا فیک نیوز پھیلانے کے لیے استعمال نہ ہوں۔ یہ اصول ادائیگی شدہ مہمات اور فطری مواد دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔
خاص توجہ یورپی یونین میں ووٹروں کو ہدف بنانے والے سیاسی اشتہارات پر پابندی کی ہے، جو شفافیت اور ماخذ کے قواعد پر پورا نہیں اترتے۔ پلیٹ فارمز کو واضح کرنا ہوگا کہ پیغام کے پیچھے کون ہے اور اسے مالی امداد کیسے حاصل ہے، تاکہ ووٹر سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں۔
ستمبر میں ہونے والی نشست میں یورپی اور نیدرلینڈ کے نگران اس بات پر زور دیں گے کہ DSA کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑی پلیٹ فارمز کے لیے یہ جرمانے ان کی عالمی سالانہ آمدنی کے نمایاں حصے تک پہنچ سکتے ہیں۔ پیغام یہ ہے کہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی روک تھام کو ترجیح دی جائے۔
ڈین ہیگ اور برسلز کی مشترکہ کارروائی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں جمہوری عمل کی حفاظت کی براہ راست ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ زور اس بات پر ہے کہ رومانیہ جیسے واقعات کی دوبارہ روک تھام کی جائے تاکہ اکتوبر میں انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں۔
یہ طریقہ کار یورپی حکمت عملی کے دائرے میں آتا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل خدمات کو سخت تر قوانین کے تحت لانا اور ان کے سماجی اثرات کو بہتر کنٹرول کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے اس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنے نظام، نگرانی اور مواد کی جانچ کو سخت کرنا ہوگا تاکہ قانون کی پاسداری ہو سکے۔

