یورپی یونین کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی رہنما تقریباً دو ہفتوں میں تیسری بار ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کورونا بحران پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں وہ وباء کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے طریقوں پر بات کر رہے ہیں تاکہ مالی بحران سے بچا جا سکے۔
بدھ کو مالیاتی وزراء کی مشاورت میں یورپی سبسڈی کے اضافی امکانات پر اختلاف پایا گیا۔ نو ممالک نے بدھ کو یورپی 'قرضہ آلہ' قائم کرنے کی اپیل کی، تاہم دیگر یورپی ممالک اس بارے میں مصلحانہ رویہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیدرلینڈز نے یورپی ممالک کے قرضوں کو متحد کرنے کی سخت مخالفت کی ہے۔ ایسے یورو بانڈز یا یہاں 'کورونا بانڈز' کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ممکن ہے کہ سربراہان نے یورو خطے کے مالیاتی وزراء کو ہنگامی فنڈ ESM کے ذریعے کورونا سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے قرض فراہم کرنے کی ہدایت دی ہو۔ یورو ممالک اِس ESM کے حصص دار ہیں۔ اطالوی حکومت چاہتی ہے کہ ESM فنڈ کو کورونا بحران کے خلاف استعمال کیا جائے بغیر معمول کی شرائط کے۔ اگر ممالک اس ہنگامی فنڈ سے معاونت حاصل کرتے ہیں تو فی الحال شرط ہے کہ وہ اقتصادی اصلاحات کریں۔ اطالیہ دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
اطالوی وزیر اعظم جوزیپے کونٹے نے پہلے بھی ESM کے استعمال کی اپیل کی ہے۔ یہ فنڈ اس وقت 410 ارب یورو تک قرضہ دے سکتا ہے۔ ESM ایک ایسا پروگرام بھی بنا سکتا ہے جس سے یورپی مرکزی بینک کو اجازت ملے کہ وہ یورو ممالک کے سرکاری قرضے لا محدود حد تک خرید سکے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ رکن ملک ESM کے استعمال پر تقسیم ہیں۔ نیدرلینڈ کے وزیر واپکے ہوکسترا (مالیات) پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ ہنگامی فنڈ صرف اس وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب دیگر تمام اقتصادی امدادی اقدامات ناکام ہو جائیں۔
تاہم نیدرلینڈ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ نو ممالک فرانس کے صدر میکرون اور اطالوی کونٹے کی قیادت میں ایک نئے 'قرضی کاغذ' کی حمایت کر رہے ہیں جس کے ذریعے تمام 27 رکن ممالک مشترکہ طور پر قرضہ حاصل کریں۔ اس صورت میں پیسے ESM کے فنڈ سے نہیں بلکہ تمام 27 یورپی ملکوں کے سرکاری بانڈز سے جمع کیے جائیں گے۔ میکرون کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کے اقتصادی اثرات کے خلاف پالیسیوں کے مالی تعاون کے لیے بہتر ہوگا۔
میکرون نے یہ اپیل ایک کھلے خط میں یورپی یونین کے صدر چارلس مشیل کو کی۔ اس خط پر اطالیہ، بیلجئیم، یونان، آئرلینڈ، لکسمبرگ، سلووینیا، اسپین اور پرتگال کے رہنماؤں نے بھی دستخط کیے ہیں۔ یہ کوئی نیا نہیں کیونکہ پچھلے بحران کے دوران بھی فرانس یورپی بانڈز کا بڑا حامی تھا، کیوں کہ اس طرح قرضوں کے خطرات کم ہوتے ہیں، کیونکہ امیر ممالک جیسے جرمنی اور نیدرلینڈ ضمانت دیتے ہیں۔
پچھلی بار کی طرح نیدرلینڈ اور جرمنی خوش نہیں ہیں۔ توقع ہے کہ یورو گروپ اس مسئلے پر اتفاق نہیں کرے گا اور بحث حکومتی سربراہان کے اجلاس تک موخر کر دی جائے گی جو جمعرات کی شام ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہو گا۔ اس وقت بھی وزیر اعظم روٹے خوش نہیں ہوں گے۔ نیدرلینڈ کی کابینہ کے حلقوں میں کہا جا رہا ہے ‘‘وہ ممالک جو اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں، وہی اب عجیب اصلاحات کی مانگ کر رہے ہیں اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔’’
اس طرح وزیر اعظم مارک روٹے جمعرات کی شام یورپی یونین میں دوبارہ ’محفوظ باز‘ کے طور پر پہچانے جانے کے خطرے میں ہیں، خاص طور پر جب انہوں نے پہلے برسلز میں یورپی یونین کے کثیرالسالہ بجٹ میں معمولی اضافہ کی مخالفت کی تھی۔ ان کے اس موقف کی وجہ سے یہ بھی غیر یقینی ہے کہ دیگر یورپی ممالک نیدرلینڈ کی زراعت کے بڑے حصے کے لیے اضافی مالی امداد کی درخواست کو مانیں گے یا نہیں۔

