پوٹن جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، مگر انہوں نے اس بات کی تاریخ نہیں بتائی کہ لڑائیاں کب ختم ہوں گی۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے دعوت کو قبول کیا ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ پیر کو فائر بندی ہونا چاہیے۔
یورپی کمیشن اور کیف نے گزشتہ ہفتے بغیر شرط کے پیر سے جنگ بندی کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری جنگ بندی ضروری ہے تاکہ مزید کشیدگی روکی جا سکے۔ پوٹن نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا اور اس کی بجائے کہا کہ اس ہفتے کے آخر میں براہ راست مذاکرات کریں گے۔
یورپی کمیشن کی چیئرپرسن ارسلا وان ڈر لین نے روسی تجویز کو 'ناکافی' قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ روس کو پہلے حملے بند کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ "اب گیند روس کے میدان میں ہے" یعنی مزید یورپی یونین کی پابندیاں ماسکو کی کارروائیوں پر منحصر ہوں گی۔ اس موقف کا یورپی رہنماؤں نے بھی ساتھ دیا۔
پوٹن چاہتے ہیں کہ بات چیت بغیر کسی ثالثی یا شرط کے ہو۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ملکوں کے نمائندے استنبول میں ملاقات کریں۔ ترکی میں انہوں نے دو سال قبل بلیک سی پر شپنگ حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا۔
یوکرینی حکومت بارہا کہا ہے کہ جنگ بندی کی کوئی بھی بات چیت روسی فوج کے زیر قبضہ علاقوں سے مکمل انخلاء سے شروع ہونی چاہیے۔ وہ خوفزدہ ہیں کہ وقتی جنگ بندی روس کو دوبارہ اپنی فوجی قوت منظم کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ اس نقطہ نظر کو کیف کے کئی مغربی اتحادی بھی مانتے ہیں۔
العربیہ کے مطابق، پوٹن نے کہا ہے کہ روس مذاکرات کی شروعات کے لیے کوئی شرط مسلط نہیں کرتا۔ تاہم وہ اپنے 'روسی مفادات کی قانونی حیثیت' کے بارے میں کہے گئے مؤقف پر قائم ہیں۔ کریملن نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ پوٹن اس سے کیا مراد رکھتے ہیں۔
جہاں یورپی یونین فوری تناؤ کم کرنے پر زور دیتی ہے، وہیں روس ایک سفارتی عمل کو ترجیح دیتا ہے جو عارضی طور پر فوجی کارروائیوں کو متاثر نہیں کرے گا۔ روسی تجویز کا فیصلہ اب کیف کی جانب سے ردعمل پر منحصر ہے۔

