یورپی کمیشن روسی سیاحوں کے ویزوں پر پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔ اس کا مقصد برسلز میں آنے والے زائرین کی تعداد کو مزید کم کرنا ہے۔ پہلے چند ملین روسی یورپی ممالک کا دورہ کرتے تھے، جو پچھلے سال کم ہو کر صرف آدھا ملین رہ گیا تھا، اور یہ زیادہ تر امیر روسی تھے۔ مکمل داخلے پر پابندی کا معاملہ ابھی زیر بحث ہے، اور یورپی ممالک میں اس پر متضاد رائے پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، شینگن زون میں روسی سفارتکاروں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرقی سرحد پر واقع یورپی ممالک خراب کاری اور جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر اس پر زور دے رہے ہیں۔ حامی اس کو سفارتی مراعات کے غلط استعمال کو روکنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ مشکوک ممالک ماسکو کی جانب سے ردعمل کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
انیسویں پابندیوں کا پیکیج توانائی کی تجارت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یورپی کمیشن روسی تیل کی برآمدات پر پہلے سے نافذ پابندیوں کو بڑھانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونی ممالک کا ذکر بھی کیا گیا ہے: جیسے چین اور ہندوستان میں آزاد ریفائنریز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے اگر وہ روسی تیل کی دوبارہ فروخت میں ملوث ہوں اور پابندیوں کو کمزور کریں۔
ایک اور اہم نکتہ منجمد روسی اثاثوں سے متعلق ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے روسی بینک اثاثوں کو ضبط کرنے سے متعلق پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ رقم یوکرین کی بحالی اور فوجی مدد کے لیے استعمال کی جا سکے۔ کمیشن ایسے قانونی طریقے تلاش کر رہا ہے تاکہ یہ رقم بین الاقوامی بینکنگ قوانین کی خلاف ورزی کے بغیر استعمال کی جا سکے۔
دریں اثنا، ماسکو نے سخت ردعمل دیا ہے۔ کرملن نے خبردار کیا ہے کہ روسی سرکاری یا نجی اثاثوں کو یوکرین کو منتقل کرنے کی ہر کوشش کو دشمنانہ کارروائی سمجھا جائے گا۔ روسی حکام ایسے ممالک کے خلاف جو اس میں ملوث ہوں، جوابی اقدامات کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ماسکو نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یورپی شہریوں اور کمپنیوں کو ردعمل کی کاروائیوں سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔
روس پر دباؤ صرف اقتصادی نہیں ہے بلکہ عسکری اعتبار سے بھی صورت حال کشیدہ ہو رہی ہے، خاص طور پر جب حال ہی میں روسی ڈرونز نے پولینڈ اور رومانیہ کے فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولینڈ میں کچھ ڈرونز کو نیٹو لڑاکا طیاروں نے ہٹا دیا، جبکہ رومانیہ میں ڈرونز کو روکا نہیں گیا۔ یہ واقعات ممکنہ وسیع فوجی کشیدگی کے خدشات کو بڑھاتے ہیں۔
متعدد نیٹو ممالک روسی ڈرونز کے خلاف نوفلائی زون کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسی پابندی نہ صرف پولینڈ کی سرحد پر بلکہ یوکرین کے فضائی حدود پر بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے کے لیے کیف کی طرف سے ایک رسمی درخواست ضروری ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ یوکرینی فضائی حدود میں روسی ڈرونز کے خلاف نیٹو کی کاروائیوں کو سیدھے حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
اسی دوران، یورپی یونین کے ادارے پولینڈ کی سرحد کے قریب روس کی فوجی مشقوں کو گہری تشویش کے ساتھ مانیٹر کر رہے ہیں۔ یہ وسیع پیمانے پر مانورز نیٹو کے لیے ممکنہ اکسایا سمجھے جاتے ہیں۔

