ٹرمپ کا فیصلہ ایک یورپی یونین کی وفد اور امریکی حکام کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے ردعمل میں آیا ہے۔ وہ تجاویز جو یورپی مذاکراتی وفد نے اس ہفتے واشنگٹن میں پیش کی تھیں، انہیں امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارتی تنازعہ میں نئی بدتری ناگزیر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ مجبور ہیں کارروائی کرنے پر، کیونکہ ان کے بقول یورپی یونین امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اپنے اعلان میں انہوں نے زور دیا کہ وہ اب یورپی ممالک کی “ناانصافانہ تجارتی پریکٹسز” برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ کون سی مصنوعات پر نئے محصولات لاگو ہوں گے۔
یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی محصولات واقعی نافذ کیے گئے تو وہ جواب میں اقدامات کریں گے۔ برسلز کے پاس پہلے سے امریکی مصنوعات کی ایک فہرست موجود ہے جن پر جواباً محصولات لگائے جا سکتے ہیں۔ کچھ لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ ٹرمپ اپنی دھمکی کے ذریعے مذاکرات پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔
یورپ میں اس خبر نے مالیاتی مارکیٹوں میں اضطراب پیدا کر دیا۔ کئی یورپی اسٹاک انڈیکس جمعہ کو مندی میں بند ہوئے جب ٹرمپ کا اعلان سامنے آیا۔ سرمایہ کار خوف زدہ ہیں کہ ایک نئی تجارتی جنگ معاشی ترقی اور استحکام پر منفی اثر ڈالے گی۔
گزشتہ جمعہ کو یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے کوئی حل نہیں نکلا۔ دونوں فریقین کی شرائط میں بہت فرق تھا۔ **Politico** کے مطابق، یورپی یونین نے محدود تبدیلیاں تجویز کی تھیں، جبکہ امریکہ نے وسیع رعایتوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اس طرح اختلاف برقرار رہا۔
یورپی یونین اب تک ہر ممکن صورتحال پر غور کر رہی ہے لیکن اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مذاکرات اب بھی جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم، تجارتی تنازع کے مزید بگڑنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ نئی محصولات واقعی نافذ کی جائیں گی یا نہیں۔

