IEDE NEWS

یوکرین کی یورپی یونین میں رکنیت کے لیے نئی جرمن تجویز

Iede de VriesIede de Vries
چانسلر مرز نے یوکرین کو 'مربوط رکنیت' دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے تحت یوکرین کو یورپی یونین میں ایک علیحدہ مقام ملے گا (یورپی کمیشن میں بھی)، اسے یورپی یونین کی سبسڈیز کا حق حاصل ہوگا لیکن ابھی اسے رسمی ووٹ کا حق نہیں دیا جائے گا۔
نئی جرمن یورپی یونین کی تجویز میں ممکنہ طور پر یوکرین کو مربوط رکنیت دی جائے گی۔

جرمنی اور فرانس نے پہلے مشترکہ طور پر ایسی ہی ایک تجویز دی تھی، لیکن اسے کیف نے مسترد کر دیا تھا اور دیگر یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے کافی حمایت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ اس ہفتے برسلز میں نئی ممبرشپ کی تقاضوں پر دوبارہ بات چیت ہوگی، جو ممکنہ طور پر خاص طور پر مونٹینیگرو کے بارے میں ہو سکتی ہے۔ یوکرین نے اب تک چھ میں سے پانچ داخلے کے امور کامیابی سے نمٹا لیے ہیں۔

مرز کی نئی تجویز کے مطابق یوکرین کو ایک قسم کی مربوط رکنیت دی جائے گی۔ اس سے ملک یورپی سربراہی اجلاسوں اور وزارتی اجلاسوں میں شرکت کر سکے گا، لیکن ووٹ دینے کے حق کے بغیر۔ یوکرین کو یورپی بجٹ کے بعض حصوں تک بھی رسائی ملے گی۔

عملی اطلاق

مرز اس منصوبے کو ایک عملی حل قرار دیتے ہیں جو ان کی رائے میں عام رکنیت کے عمل سے جلد حل نہیں ہو سکتا۔ وہ مکمل رکنیت کو سست کرنے والی سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تمام یورپی یونین کے ممالک کو بالآخر کسی نئے رکن کی منظوری دینی ہوتی ہے، جس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

Promotion

جرمن چانسلر اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یوکرین کو آخرکار یورپی یونین کا مکمل رکن بننا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ تجویز کمزور رکنیت نہیں بلکہ ایک عارضی قدم ہے تاکہ مذاکرات کے دوران یوکرین کو یورپی یونین کے قریب تر لایا جا سکے۔

سلامتی

منصوبے میں یوکرین یورپی دوطرفہ امداد کے معاہدوں کے تحت بھی آتا ہے۔ اس طرح مرز نے اس تجویز کو خاص طور پر یورپ کی سلامتی سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین میں جنگ صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے براعظم کو متاثر کرتی ہے۔

مرز اپنے خیالات دوسرے یورپی رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک خصوصی ورکنگ گروپ کا مطالبہ کرتے ہیں جو منصوبے کی تفصیلات تیار کرے۔ اس میں قانون کی حکومت سے متعلق شرائط بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ اگر یوکرین متفقہ معیار پر پورا نہ اترے تو عارضی رکنیت منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔

یورپ میں اس تجویز کو دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس پر شک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض ممالک یورپی یونین کے اندر مزید پیچیدہ درمیانی ڈھانچوں کے امکانات سے خوفزدہ ہیں۔ اس کے علاوہ خدشہ ہے کہ یوکرین طویل مدت کے لیے ایک عبوری حیثیت میں رہ جائے گا جس میں مکمل رکنیت کا واضح راستہ موجود نہ ہو۔

ترقی

دوسری جانب یوکرین یورپی یونین کے ساتھ سرکاری رکنیت کے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ اس نے جنگ کے دوران یورپی اداروں اور قواعد کے ساتھ وابستگی پر زور دیا ہے، خاص طور پر معاشی اور سیاسی شعبوں میں۔ اب تک اس نے چھ میں سے پانچ داخلہ درخواستوں کی تکمیل کر لی ہے۔

اس ہفتے کے آخر میں یورپی ممالک یورپی یونین کی وسعت اور نئے اراکین کے طریقہ کار پر دوبارہ بات کریں گے۔ اس بار نہ صرف یوکرین بلکہ دیگر امیدوار ممالک پر بھی غور کیا جائے گا۔

Promotion

ٹیگز:
Oekraine

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Promotion