یورپی کمیشن نئی سائبر قواعد تیار کر رہا ہے جو یورپی یونین کے ممالک کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے اہم حصوں سے چینی ٹیکنالوجی کو ہٹا دیں۔ کئی سالوں سے ایک رضاکارانہ نظام موجود ہے، لیکن بہت سے یورپی ممالک اس پر عمل نہیں کرتے۔ چنانچہ برسلز اب ایک لازمی درآمدی پابندی پر کام کر رہا ہے۔
مرکزی طور پر موبائل ٹیلی کام نیٹ ورکس، بشمول 5G، کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبے خاص چینی فراہم کنندگان جیسے ہواوے کو ان نیٹ ورکس کے اہم اجزاء تک رسائی سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
یورپی کمیشن اس بات سے ناخوش ہے کہ بعض یورپی ممالک پچھلی ہدایات پر کس طرح عمل کر رہے ہیں۔ 2020 سے یورپی سفارشات موجود ہیں، لیکن برسلز کے مطابق یہ غیر مساوی اور ناکافی طریقے سے نافذ کی گئی ہیں۔
نئی قانون سازی کا مقصد اس غیر پابند رویے کو ختم کرنا ہے۔ قومی فیصلہ سازی کی بجائے یورپی قانون یہ طے کرے گا کہ کچھ فراہم کنندگان کو حساس نیٹ ورکس سے نکال دیا جائے۔
منصوبے کی حدود صرف ٹیلی کام تک محدود نہیں ہیں۔ توانائی اور نقل و حمل جیسے حساس سمجھے جانے والے دیگر شعبے بھی نئی قواعد کے دائرہ کار میں آ سکتے ہیں۔
ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے ایک عبوری مدت کا انتظام کیا جائے گا۔ قانون کے نفاذ کے بعد انہیں اپنا موجودہ سازوسامان آہستہ آہستہ نیٹ ورکس سے ہٹانے کے لیے وقت دیا جائے گا۔
چین نے یورپی منصوبوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چینی نمائندے خبردار کرتے ہیں کہ ماخذ کی بنیاد پر پابندی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اقتصادی تعاون پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
یہ تجاویز ابھی یورپی پارلیمنٹ اور یورپی وزراء کے اجلاس میں زیر بحث آئیں گی۔

