ایک معاہدہ منگل کو یورپی کونسل کے چیئرمین اینٹونیو کوستا، یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلاء فون ڈر لیین، اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد ہوسکتا ہے۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات 2022 میں نو سال کی تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوئے۔ گزشتہ سال ان مذاکرات کو دھکا ملا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے درآمدی ٹیکسز میں اضافہ کیا۔ پچھلے سال بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت 116.6 ارب یورو کی تھی، جس سے 27 ملکوں پر مشتمل یورپی یونین بھارت کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک بن گئی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ٹیکسز میں اضافے کے باعث کئی ممالک اپنی امریکا پر انحصار کم کرنے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کر رہے ہیں۔ یورپی یونین اس وقت آسٹریلیا کے ساتھ بھی ایک نئے معاہدے پر کام کر رہی ہے، جو اِنڈونیشیا، میکسیکو اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ پہلے کیے گئے معاہدوں کے بعد ہے۔ اسی دوران، نئی دہلی نے برطانیہ، نیوزی لینڈ اور عمان کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔
پچھلے ہفتے داؤوس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران فون ڈر لیین نے کہا کہ یورپی یونین معاہدے کے قریب ہے، اگرچہ ’’ابھی کچھ کام باقی ہے‘‘۔ معاہدے پر دستخط کے بعد اسے یورپی پارلیمنٹ سے منظوری لینا ہوگی، جو کم از کم ایک سال کا عمل ہو سکتا ہے۔
پچھلے ہفتے یورپی پارلیمنٹ نے چند جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ ایک بڑے تجارتی معاہدے کی منظوری دینے سے انکار کیا کیونکہ وہ مرکسور معاہدے کے قانونی جواز پر یورپی ججز کی رائے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ خاص طور پر یورپی کسان اپنی مارکیٹ میں زیادہ مقابلے کی اجازت دینے کے خلاف ہیں۔
نئے بھارت معاہدے میں ابھی تمام رکاوٹیں دور نہیں ہو سکیں۔ مذاکرات کار ابھی بھی چند حساس مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں، جن میں بھارت کی یورپی گاڑیوں پر درآمدی ٹیکس نمایاں حد تک کم کرنے میں محتاط رویہ شامل ہے۔
بھارتی محکمہ تجارت کے مطابق کچھ حساس زرعی مصنوعات مذاکرات سے مستثنیٰ ہیں۔
اپ ڈیٹ 10:41 بجے: دونوں وفود نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اب تک کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وہ اسے ’ہر دور کا ماں معاہدہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ زرعی مصنوعات کے لیے زیادہ سے زیادہ کوٹہ اور ’ایمرجنسی بریک‘ بھی رکھا گیا ہے۔

