یورپی رہنماؤں نے یورپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ یہ جانچ کرے کہ کس طرح یونین کے تجارتی مفادات کو بہتر حفاظت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں دیکھا جائے گا کہ موجودہ آلات کافی ہیں یا مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
گاڑیاں اور اسٹیل
رہنماؤں کے مطابق چینی سبسڈیز اور بڑی پیداواری صلاحیت کی وجہ سے یورپی کمپنیاں مقابلہ میں مشکل کا شکار ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر برقی گاڑیاں، بیٹریاں اور اسٹیل جیسے شعبوں میں سستے چینی مصنوعات کے یورپی بازار پر اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
کمیشن کو نئے تجاویز تیار کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ رکن ممالک زور دیتے ہیں کہ چین کے ساتھ مشاورت جاری رکھنی چاہیے۔ اس مہینے کے آخر میں دونوں فریقین کے نمائندگان کا دوبارہ اجلاس طے ہے۔
Promotion
کم انحصار
یورپی یونین میں سخت تجارتی حکمت عملی کے لیے حمایت بڑھ رہی ہے۔ متعدد حکومتیں سمجھتی ہیں کہ یورپ کو اہم مصنوعات اور خام مال کے لیے چین پر کم انحصار کرنا چاہیے اور وہ اضافی حفاظتی اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم کچھ پسپائی بھی موجود ہے۔ کئی رکن ممالک کو خدشہ ہے کہ یورپی سخت اقدامات کے جواب میں چین بھی کاؤنٹر اقدامات کر سکتا ہے۔ اس لیے وہ محتاط انداز میں اگلے قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔
کمیشن کے مطابق نئے تجارتی آلات کی تیاری میں وقت لگے گا۔ پہلے دیکھا جائے گا کہ موجودہ وسائل کو کیسے بہتر استعمال کیا جا سکتا ہے، پھر نئے تجاویز پیش کیے جا سکتے ہیں جنہیں یورپی قانون سازی کے عمل سے بھی گزارنا ہوگا۔
مزید مضبوطی
بحث میں یہ بھی آواز سنائی دیتی ہے کہ صرف تجارت کی حفاظت ہی نہیں بلکہ یورپی کمپنیوں کی مسابقتی صلاحیت کو بھی بڑھانا ضروری ہے۔ شریک افراد کے مطابق اگر یورپ اہم صنعتوں میں اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو صرف تحفظ کافی نہیں۔
آئندہ چند ماہ میں یہ واضح ہوگا کہ کمیشن کے ٹھوس تجاویز آنے پر یورپی ممالک کتنے دور تک جانے کو تیار ہیں۔ اس سے پتہ چلے گا کہ یورپی رہنماؤں کی سیاسی حمایت نئے تجارتی اقدامات میں بدلتی ہے یا نہیں۔

