یورپی کمیشن غیر یورپی ملکوں سے درآمد شدہ مصنوعات میں کچھ مخصوص زرعی جراثیم کش ادویات کی باقیات کے لیے اجازت شدہ حد کو سخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ وہ مادے ہیں جو یورپی یونین میں صحت یا ماحول کے خطرات کی وجہ سے ممنوع ہیں، لیکن بعض شرائط کے تحت درآمد شدہ مصنوعات میں ان کی باقیات کی اجازت دی جاتی ہے۔
براسلز چاہتا ہے کہ یورپی یونین میں ممنوعہ مادے جو غیر ملکی زرعی مصنوعات کے ذریعے یورپی بازار میں آ گئے ہوں، اس سے بچا جائے۔ موجودہ نظام کچھ ایسی باقیات کی اجازت دیتا ہے جو صارفین کے لیے خطرہ نہیں ہوتیں۔ نئی حکمت عملی ایسے مادوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے جو وسیع صحت یا ماحولیاتی خطرات کی وجہ سے ممنوع ہیں۔
بین الاقوامی
اس کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برازیل اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہ مسئلہ عالمی تجارتی تنظیم میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ تجارتی شراکت دار خبردار کرتے ہیں کہ یورپی معیار کی سختی سے یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے اور عالمی تجارتی و سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
Promotion
یورپی کمیشن کے محققین نے حال ہی میں حساب لگایا ہے کہ اگر اجازت شدہ مقدار کو تکنیکی طور پر صفر تک کم کر دیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔ مختلف منظرناموں میں ایک ہی رجحان سامنے آتا ہے: زرعی مصنوعات کی درآمد کم ہو جاتی ہے، یورپی یونین کے اندر ان کی پیداوار بڑھتی ہے، اور صارفین زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔
نتائج
ان نتائج کی شدت خاص طور پر غیر یورپی پیدا کنندگان کے ردعمل پر منحصر ہے۔ اگر غیر ملکی کسان نئی شرائط کے مطابق اپنی پیداوار کو ایڈجسٹ کر لیتے ہیں تو اثرات کم رہیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں یا بہت کم کریں تو یورپی ملکوں میں خوراک کی قیمتوں اور تجارتی بہاؤ پر اثرات کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
مہنگی کافی
انتہائی صورت حال میں یہ فرق بہت بڑا ظاہر ہوتا ہے۔ اگر غیر ملکی پیدا کنندگان بالکل نہیں بدلتے تو کافی کی قیمت 332 فیصد تک بڑھ سکتی ہے اور ترش پھل کی قیمت 82 فیصد مہنگی ہو سکتی ہے۔ اس مفروضے میں یورپی یونین کی زرعی درآمدات 41 فیصد کم ہو جائیں گی۔
ابھی تک نئی ضوابط کی سختی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ کمیشن نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ کون کون سی زرعی جراثیم کش ادویات متاثر ہوں گی اور وہ ہر مادے کو علیحدہ کیس کے طور پر جانچنا چاہتا ہے۔اس عمل میں خوراک کی حفاظت اور عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ تجویز اب بھی یورپی قانون سازی کے عمل سے گزر رہی ہے۔

