یونان کو غیر قانونی طور پر دی گئی زرعی سبسڈیز کی مد میں کل 394 ملین یورو واپس کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ 78 ملین یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ یہ واپسی اور جرمانے کا مجموعہ یورپی یونین کی طرف سے کسی رکن ملک پر عائد کردہ سب سے بڑا مالی زرعی تعزیر ہے۔
یورپی کمیشن میں یونان پر مشترکہ زرعی پالیسی (GLB) کے انتظام میں دہائیوں پر محیط بدانتظامی کا الزام لگایا ہے۔ برسلز کے مطابق یونانی حکام نے سبسڈی کی درخواستوں اور مستحقین کی منظوری کی جانچ پڑتال میں نظامی ناکامی کی۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کسانوں کو سالوں تک غلطی سے یورپی رقم ملتی رہی۔
یورپی آڈٹ کورٹ کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی میں "ساختی خامی" موجود تھی۔ بعض معاملات میں سبسڈیز ان زمینوں کے لیے دی گئیں جو وجود ہی نہیں رکھتیں یا سبسڈی کے قابل علاقوں سے باہر تھیں۔
تعزیرات کا اطلاق 2006 سے 2022 تک کے عرصے پر ہے۔ یورپی کمیشن نے ان سالوں میں متعدد چیکنگز کیں جن میں بار بار سنگین نقائص سامنے آئے۔ یونانی حکام کو متعدد وارننگ دی گئی مگر بنیادی اصلاحات نہیں کی گئیں۔
اس جرمانے کے مالیاتی اثرات کے ساتھ سیاسی نتائج بھی نکلے ہیں۔ ایٹھاہیمیرینی اور گریک سٹی ٹائمز کے مطابق اس معاملے نے ایتھنز میں مختلف محکموں کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ یونانی وزیر زراعت فراڈ کے ناقص انتظام اور اصلاحات کی عدم موجودگی کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یورپی کمیشن نے یہ بڑا جرمانہ یورپی عدالت انصاف کی مداخلت کے بغیر عائد کیا ہے۔ یورپی میڈیا کے مطابق یہ قانونی طور پر "مطابقت اصلاحات" کے نظام کے تحت ممکن ہے، جس میں کمیشن بغیر عدالتی حکم کے سبسڈیز واپس لے سکتا ہے۔
اگرچہ ایٹھاہیمیرینی اور ٹو وِما جیسی یونانی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایتھنز حکومت اعتراض دائر کرنے پر غور کر رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ملک واقعی قانونی کارروائی کرے گا یا نہیں۔ یونانی حکومت کی طرف سے فی الحال کوئی سرکاری جواب نہیں آیا ہے۔ مستقبل کی زرعی سبسڈیز پر اس کے ممکنہ اثرات بھی کہیں واضح نہیں کیے گئے ہیں۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ دیگر یورپی ملکوں کو اس کیس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ برسلز نے زور دیا ہے کہ زرعی مالیات کا درست استعمال یورپی پالیسی میں اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ دوسرے ملکوں میں نئی جانچ پڑتال کی پیش گوئی کی گئی ہے لیکن ابھی ان کا اعلان نہیں ہوا۔

