IEDE NEWS

یورپی یونین کینیڈا کو مزید تعاون کی دعوت دیتی ہے، دفاع میں بھی

Iede de VriesIede de Vries
یورپی یونین کینیڈا کو ایک نئی قسم کی 'متعلقہ یورپی یونین رکنیت' پیش کر رہی ہے۔ کمیشن کی صدر ارسولا فون ڈیر لیئین کینیڈا کو ایک نئے قائم کردہ 'یورپی سلامتی کونسل' میں شامل کرنا چاہتی ہیں، جس میں یوکرین، ناروے اور برطانیہ جیسے دیگر غیر یورپی یونین ممالک بھی شامل ہوں گے۔
فون ڈیر لیئین کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا متصل رکن بنانے کی تجویز پیش کرتی ہیں۔

کینیڈا یوں یورپی یونین کا پہلا متصل رکن بن سکتا ہے۔ فون ڈیر لیئین نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو اس نئے تعاون کی راہ ہموار کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فون ڈیر لیئین نے یہ تجویز اپنی سالانہ "State of the Union" تقریر میں یورپی پارلیمنٹ اسٹراسبرگ میں پیش کی۔ کارنی نے اس خطاب میں شرکت کی۔ کینیڈا اور یورپی یونین طویل عرصے سے گہرے تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں۔

نئی یورپی سلامتی کونسل (جس میں غیر یورپی یونین ممالک بھی شامل ہوں گے) نیٹو کے تحت موجودہ فوجی تعاون کے ساتھ کام کرے گی۔ حالیہ برسوں میں یہ مشاورت یوکرین کی مدد کے لیے شروع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ کے علیحدہ اقتصادی اور دیگر شعبوں میں خودمختار کردار ادا کرنے کی بڑھتی ہوئی صورتحال بھی اس میں کردار ادا کرتی ہے۔

قریبی تعلقات

کارنی کا اسٹراسبرگ کا دورہ کینیڈا کے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔ کارنی نے دورے سے قبل کہا کہ کینیڈا یورپی یونین کا عام رکن بننا نہیں چاہتا بلکہ ایک 'منفرد اتحاد' کا خواہاں ہے۔

Promotion

اس کی تفصیلی نوعیت ابھی طے نہیں پائی ہے۔ کارنی کے مطابق یہ دورہ ایک متحرک عمل کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔ یورپی یونین کے کئی غیر رکن ممالک کے ساتھ مختلف قسم کے تجارتی معاہدے موجود ہیں۔ آسٹریلیا نے بھی اس نئی 'متصل رکنیت' میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

امریکہ سے کم تعلقات

یہ قربت کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازع کے پس منظر میں ہے۔ امریکی درآمدی محصولات کی وجہ سے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ کینیڈا اپنی اقتصادی اور سلامتی کے تعلقات کو مزید متنوع بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی یونین بھی متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو بڑھا رہا ہے۔

قدرتی وسائل

مزید اقتصادی تعاون کے لیے CETA تجارتی معاہدہ پہلے ہی ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کینیڈا اور یورپی یونین کے مابین تقریباً تمام تجارت درآمدی محصولات سے آزاد ہے۔ تاہم، اس معاہدے کے مواقع مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہے۔ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس کے فوائد سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا رہے۔

دفاع بھی قربت کا ایک اہم پہلو ہے۔ کینیڈا یورپ کے ساتھ اس میدان میں پہلے ہی تعاون کر رہا ہے۔ دونوں فریق توانائی اور اہم قدرتی وسائل میں اضافی تعاون کی ممکنات دیکھتے ہیں۔ اس میں کینیڈا کے قدرتی وسائل اور توانائی کے ذخائر کو یورپی مارکیٹ اور پیداوار کے ساتھ مضبوط طور پر جوڑا جا سکتا ہے۔

وسیع حمایت

کینیڈا میں قریبی تعاون کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت موجود ہے۔ ستمبر کے آغاز میں ایک سروے کے مطابق 80 فیصد لوگ یورپی یونین کے ساتھ خارجہ پالیسی، دفاع اور معیشت میں مزید سخت تعاون کی حمایت کرتے ہیں۔ 81 فیصد لوگ قریبی یکجائی کی حمایت کرتے ہیں، جس میں آسان تجارت، سفر، کام اور تعلیم شامل ہیں۔

اس تعاون کی تفصیلی کارروائی اسٹراسبرگ میں مکمل نہیں ہوگی۔ کینیڈا اور یورپی مبصرین موجودہ مذاکرات کو ایک عمل کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگلا اہم مرحلہ اکتوبر کے آخر میں کینیڈا اور یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں متوقع ہے، جہاں دونوں پارٹیاں اپنے تعلقات کو مزید بلند سطح پر لے جانا چاہتی ہیں۔

Promotion

ٹیگز:
DefensieUSA

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Promotion