یورپی یونین میں حیاتیاتی مارکیٹ بڑھتی جارہی ہے۔ 2020 میں آمدنی 15 فیصد بڑھ کر 44.8 ارب یورو ہوگئی۔ حیاتیاتی رقبہ 0.7 ملین ہیکٹر (5.3 فیصد) بڑھا ہے، جیسا کہ شماریاتی سالنامہ ’دی ورلڈ آف اورگانک ایگری کلچر‘ سے ظاہر ہوتا ہے۔
بڑھوتری گزشتہ سال کے مقابلے میں سست تھی، لیکن تقریباً دس سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ گزشتہ دس سالوں میں یورپی یونین میں خوردہ فروخت دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ 2020 میں یورپی یونین میں 14.9 ملین ہیکٹر پر حیاتیاتی طور پر کاشت کاری کی گئی۔
فرانس تقریباً 2.5 ملین ہیکٹر کے ساتھ نیا اولین مقام حاصل کر چکا ہے، اس کے بعد اسپین (2.4 ملین ہیکٹر) اور اٹلی (2.1 ملین ہیکٹر) ہیں۔ 2020 میں فرانس میں 307,000 ہیکٹر حیاتیاتی زمین میں اضافہ ہوا، اٹلی میں 102,000 ہیکٹر اور جرمنی میں 88,000 ہیکٹر اضافہ ہوا۔
حیاتیاتی رقبہ کل زرعی رقبے کا 9.2 فیصد تھا۔ ’فارمر ٹو فورک‘ خوراکی حکمت عملی میں یورپی یونین اسے زرعی رقبے کے ایک چوتھائی تک بڑھانا چاہتی ہے۔ پندرہ یورپی ممالک نے بتایا کہ ان کی کم از کم دس فیصد زرعی زمین پہلے سے ہی حیاتیاتی طور پر کاشت کی جارہی ہے۔
یورپی یونین میں تقریباً 350,000 حیاتیاتی پیداواری ماہرین تھے۔ سب سے زیادہ حیاتیاتی پروسیسرز ملک اٹلی تھا (تقریباً 23,000)، جب کہ جرمنی کے پاس سب سے زیادہ درآمد کنندگان تھے (تقریباً 1,900). 2020 میں غیر یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے یورپ اور دنیا میں فی فرد سب سے زیادہ حیاتیاتی مصنوعات کی کھپت کی۔
یورپی یونین حیاتیاتی مصنوعات کی سب سے بڑی اندرونی مارکیٹ کی حیثیت سے دوسرے نمبر پر تھا، پہلی پوزیشن ریاستہائے متحدہ کے پاس 49.5 ارب یورو کے ساتھ ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا حیاتیاتی مارکیٹ ملک جرمنی ہے جس کی مالیت 15 ارب یورو ہے۔

