اہم آلودگی کے ذرائع میں زرعی کھادیں اور کیمیائی مواد شامل ہیں جو پانی کو نائٹروجن اور فاسفورس جیسے غذائی اجزاء سے آلودہ کرتے ہیں، جس سے یوٹروفیکیشن ہوتا ہے۔ صنعتی فضلہ پانی بھی دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں کی کیمیائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔
پانی کے راستوں میں ڈھانچے جیسے بند اور نہری نظام کی تبدیلیوں نے بھی ماحولیاتی زوال میں کردار ادا کیا ہے، جیسا کہ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کی ایک تازہ رپورٹ میں ظاہر ہوا ہے۔
سطحی پانی کو حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے، لیکن شمال مغربی یورپ کے کئی علاقوں (جن میں بیلجیم، نیدرلینڈز اور جرمنی شامل ہیں) میں پانی کے 90% سے زائد ذخائر کا معیار معتدل، خراب یا بہت خراب سمجھا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے زمین کی آلودگی سے متعلق ہدایات اور کیمیائی مادے کے بہاو کو روکنے کے لیے متوقع نظر ثانی نہایت اہم ہے۔ اس فریم ورک ڈائریکٹو کی نظر ثانی نہ صرف پانی کے معیار کو بہتر کرے گی بلکہ ماحولیاتی نظام کی صحت کی بحالی کا باعث بھی بنے گی۔
سطحی پانی کی آلودگی کے علاوہ، یورپ کو موسمیاتی تبدیلی کا بھی سامنا ہے، جو پانی کی دستیابی پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارش کے نمونوں میں تبدیلی، اور بارش کی کمی کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر جنوبی یورپ میں۔ وہاں دریا اور جھیلیں تیزی سے آلودہ ہو رہی ہیں، جس سے پانی کے معیار کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔

