ریاستہائے متحدہ نے گزشتہ ہفتے چار ICC ججوں کے خلاف پابندیاں عائد کیں جو غزہ کی پٹی میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات میں شامل ہیں۔ امریکہ عدالت پر سیاسی جانبداری کا الزام لگاتا ہے، تاہم ICC اور EU کے مطابق اس کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔
یورپی یونین نے سخت مذمت کا اظہار کیا۔ EU کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور دیگر اعلیٰ حکام نے زور دیا کہ EU ICC کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیاں آزاد عدالتی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ بوریل نے کہا کہ عدالت کا کام "انصاف اور جوابدہی کے لیے نہایت اہم ہے"۔
کئی EU حکام نے موجودہ EU قانون سازی کو فعال کرنے کی درخواست کی ہے جو یورپی اداروں کو تیسری ملکوں کی علاقائی پابندیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ 'بلاکنگ اسٹیٹوٹ' EU کے شہریوں کو ایسی پابندیوں کی تعمیل سے روک سکتا ہے جو EU قانون کے مطابق غیر قانونی ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ایک سرکاری بیان میں امریکی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مخالفت کی اور انہیں "بے مثال" قرار دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف انفرادی ججوں کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ ICC کے وسیع تر مینڈیٹ کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
یہ معاملہ NATO کے اندر بھی سیاسی کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔ عرب نیوز اور الجزیرہ کے مطابق سفارتکار خوفزدہ ہیں کہ امریکہ اور ICC کے درمیان تنازعہ اتحادی تعاون کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر کیونکہ کئی NATO ممالک، جن میں نیherlands بھی شامل ہے، ICC سے منسلک ہیں۔
نیherlands، جو ICC کا میزبان ملک ہے، نے امریکی پابندیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ نیدرلینڈز کے وزارت خارجہ نے زور دیا کہ عدالت خودمختار ہے اور اس کے ججوں کو بیرونی دباؤ سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
امریکی دباؤ کے باوجود EU اپنی حمایت پر قائم ہے اور کہتا ہے کہ عدالت بین الاقوامی قانونی نظام کا ایک ستون ہے۔ ان کے خیال میں عدالتی اداروں کو سیاسی دھمکیوں کے تحت نہیں لایا جانا چاہیے۔
اگرچہ EU نے مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یونین امریکی اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی یا 'بلاکنگ اسٹیٹوٹ' کو فعال کرے گی۔ اس حوالے سے EU کے اندر بحث جاری ہے۔

