برسلز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو وہ تیزی اور مؤثر طریقے سے ردعمل دے گا تاکہ اپنی ضابطہ کاری کی خودمختاری کا دفاع کرے گا اور اسے ‘‘ناانصافی اقدامات’’ کہا ہے۔
قومی حکومتوں نے بھی اپنی رائے دی۔ فرانسیسی صدر میکرون نے اسے یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کو نقصان پہنچانے والا دباؤ اور دھمکی قرار دیا۔ علاوہ ازیں، جرمن وزارت انصاف اور دیگر یورپی رہنماؤں نے امریکی اقدام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ریاستہائے متحدہ نے گزشتہ ہفتے پانچ یورپی باشندوں کو امریکہ داخلے کی اجازت سے محروم کر دیا۔ واشنگٹن کے مطابق یہ افراد امریکی آراء کو آن لائن سنسر کرنے والے ہیں۔
امریکی اقدام ان پانچ افراد پر مرکوز ہے جو آن لائن سیکیورٹی کے حوالے سے سرگرم ہیں اور نفرت آمیز تقریر اور غلط معلومات کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان میں تھیری بریٹون بھی شامل ہیں، جو پہلے یورپی یونین کمشنر تھے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ انٹری پابندیاں اعلان کیں۔
روبیو کے مطابق، متعلقہ افراد نے ‘‘منظم کوششیں’’ کیں تاکہ امریکی پلیٹ فارمز کو موقف سنسر، بدنام یا دبانے پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے ‘‘شدید نظریاتی کارکنان’’ اور تنظیموں کا ذکر کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی سنسر شپ کو فروغ دیا ہے۔ امریکی حکومت اب ایسی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
اس تنازعے کا مرکزی نقطہ یورپی ڈیجیٹل قوانین ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل سروس ایکٹ، جسے واشنگٹن سنسر شپ کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، بریٹون ان قوانین کے پیچھے اہم محرک قوتوں میں سے ایک ہیں۔
یورپی کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی یورپی یونین کی ایک بنیادی قدر ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے داخلی بازار کی خودمختار ریگولیشن کا حق حاصل ہے اور وہ بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے قوانین وضع کر سکتی ہے، بغیر کسی امتیاز اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں۔
ریاستہائے متحدہ کا یہ اقدام یورپ میں اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگلا قدم کیا ہوگا، یہ واضح نہیں ہے۔ یورپی کمیشن کہتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا لیکن جوابی اقدامات سے انکار نہیں کرتا۔

