یورپی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ اسرائیل کی یورپی تحقیقی پروگرام Horizon Europe کے کچھ حصوں میں شرکت معطل کی جائے۔ یہ تجویز خاص طور پر اسرائیلی یونیورسٹیوں اور یورپی اداروں کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے ہے۔ وسیع تر ایسوسی ایشن معاہدے یا فوجی سامان کی فراہمی کے تعلق سے کسی تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا۔
فلسطینیوں کے خلاف غزہ میں جاری جنگ یورپی مباحثے کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔ یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے دوران اسرائیل کے رویے پر تشویش مند ہے۔
کئی یورپی ممالک پہلے سے ہی سخت اقدامات کے حق میں ہیں۔ کئی دارالحکومتوں میں پارلیمانی تحریکیں منظور کی گئی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کی نظرثانی یا فوجی تعاون کے کچھ حصوں کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔
فرانسیسی صدر میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اس سال کے آخر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تسلیم سے ایک پائیدار حل میں مدد مل سکتی ہے اور دوسرے یورپی ممالک سے اس موقف کو اپنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہاؤس آف کامنز کو گرمیوں کی چھٹیوں سے واپس بلایا ہے تاکہ فلسطین کی ممکنہ تسلیم کے موضوع پر فوری بحث ہوسکے۔
نیدرلینڈز میں بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ نے چھٹیوں کو آگے بڑھا کر ایک تجویز پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت دو اسرائیلی وزیروں کو نیدرلینڈز میں داخلے سے روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ وزراء اسرائیلی حکومت کے سب سے سخت گیر حلقے سمجھے جاتے ہیں۔ تجویز کے مطابق ان کے نظریات نیدرلینڈز اور یورپی اقدار کے منافی ہیں۔
اگرچہ یورپی کمیشن کی موجودہ تجویز صرف تحقیقی فنڈنگ تک محدود ہے، لیکن یہ آئندہ مزید اقدامات کے لیے بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض رکن ممالک اس پیغام کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتمی فیصلہ وزارتی کونسل کا ہوگا جو جلد ہی اجلاس کرے گی۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ واقعی پابندیاں عائد کی جائیں گی یا نہیں۔

