یورپی یونین نے اب تک کا سب سے واضح قدم اٹھاتے ہوئے چینی آلات کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی انورٹرز کو تمام یورپی یونین فنڈڈ منصوبوں میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی چین کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر غیر منصفانہ مقابلہ بازی کا الزام عائد کر رہے ہیں اور جوابی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
جن فراہم کنندگان کو خطرناک سمجھا جاتا ہے، انہیں اب یورپی منصوبوں کی نیلامی میں شرکت سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ اس بحث میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہیوائی کا اہم کردار ہے۔ یہ کمپنی ٹیلی کام نیٹ ورکس اور شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی دونوں میں سرگرم ہے اور یورپی یونین اسے حساس بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھتا ہے۔
دیگر شعبے
یہ بحث یورپی یونین اور چین کے درمیان وسیع تر کشیدگیوں کے پس منظر میں ہو رہی ہے، جس میں صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ برقی گاڑیاں، اسٹیل اور دیگر صنعتیں بھی شامل ہیں۔
Promotion
یورپی یونین کی تشویش نیٹ ورکس اور توانائی کی فراہمی کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ خطرات میں نظام کی خلل اندازی، حساس معلومات تک رسائی اور غیر ملکی حکومتوں کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔
زیادہ خود مختاری
یہ اقدامات یورپی یونین کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایسے شعبوں میں غیر ملکی فراہم کنندگان پر کم انحصار کرنا ہے جنہیں اسٹریٹجک سمجھا جاتا ہے۔
ایک ہی وقت میں، برسلز اپنی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے نئے قوانین پر کام کر رہا ہے۔ ایسی یورپی کمپنیاں جو یورپی یونین کی سبسڈی چاہتی ہیں، انہیں اپنے زیادہ تر پیداوار یورپ میں کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ امریکہ سے درآمد پر کم انحصار کرنے کے لیے بھی لاگو ہوتا ہے۔
اپنی یورپی خود مختاری کو مضبوط بنانے کے یہ منصوبے چین کی جانب سے سخت رد عمل کا باعث بنے ہیں۔ چینی حکومت نے اسے امتیاز قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ چینی کمپنیوں کے خلاف اقدامات یورپی کاروباروں پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔
بہتر تحفظ
یورپ کے اندر بھی اس معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ یورپی ممالک سخت موقف کے حق میں ہیں جبکہ کچھ معاشی اثرات اور تجارت میں خلل سے خدشہ رکھتے ہیں۔
نئے اقدامات کے ساتھ، یورپی یونین ایک واضح پیغام دے رہی ہے: اسٹریٹجک شعبوں کو بہتر تحفظ دینا چاہیے، چاہے اس سے ایک اہم تجارتی ساتھی کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھے۔

